خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 310

خطبات محمود جلد (5) ۳۱۰ اپنی جماعت کو ٹیکہ کے لگوانے سے منع کر دیا ہاں ان کو اجازت دے دی جو حکام کی ماتحتی میں ٹیکہ لگوانے پر مجبور کئے جاتے ہیں۔ٹیکہ کے متعلق قطعی رائے لگائی گئی تھی کہ طاعون کے لئے یہ یقینی علاج ہے اس لئے حضرت صاحب نے اس کے لگوانے سے روک دیا تا کہ آپ کی جماعت کی یہ خصوصیت کہ اس پر طاعون کا حملہ نہ ہوگا مشتبہ نہ ہو جائے اور یہ نہ سمجھا جائے کہ ٹیکہ لگوانے کی وجہ سے طاعون نے حملہ نہیں کیا ورنہ دوسرے ذرائع کو کام میں لانے سے حضرت صاحب نے نہیں روکا بلکہ فرماتے کہ جرابیں پہنو۔اندھیری جگہوں میں نہ رہو۔اور مکانات کو صاف اور سُتھرا رکھو۔چونکہ ٹیکے کو یقینی علاج سمجھا گیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس سے روک دیا اور دوسرے ذرائع پر بھروسہ نہیں کیا گیا تھا ان کے استعمال سے نہیں روکا گیا تھا حالانکہ واقعہ میں ٹیکہ بھی علاج تو ہے مگر چونکہ یہ علاج پیشگوئی میں رخنہ ڈالنے والا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو منع فرما دیا ہاں جو ٹیکہ لگوانے پر مجبور کیا جاوے وہ مجبور ہے ) تا مخالفین کے لئے یہ ایک نشان ہو کہ باوجود یقینی علاج کو استعمال نہ کرنے کے ہماری جماعت کے لوگ شاذ و نادر ہی اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں مگر جہاں کا حکم نہ ہو وہاں اسباب اور ذرائع کو کام میں لاناہی تو گل ہے۔چنانچہ سورہ فاتحہ جو پینتین بار ہر روز بلکہ پچاس ساٹھ بار اگر نوافل وغیرہ بھی شمار کئے جائیں پڑھی جاتی ہے۔اور پھر کوئی روک نہیں کہ ہزار بار بھی پڑھی جائے کیونکہ نوافل کا پڑھنا کوئی محدود نہیں۔اس میں خدا تعالیٰ نے دُعا کے گر بتائے ہیں۔اوّل تو خود دعا سکھلائی ہے کیونکہ بندہ اگر خود دعا تجویز کرتا تو غلطی کا امکان تھا مگر خدا تعالیٰ نے دُعا خود سکھلا دی اور ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ دُعا کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بندہ خود بھی کچھ کوشش کرے۔فرمایا إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ صرف منہ سے ہم تجھے معبود نہیں کہتے بلکہ عملاً اس عبودیت کے بجالانے کے لئے حاضر ہیں۔پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ آپ عبودیت کے طریق ہمیں بتا ئیں۔عبودیت خدا تعالیٰ کے فضل کی جاذب ہے۔جب خدا کے فضل کے لئے بھی سامان عبودیت کی ضرورت ہے تو پھر دُنیاوی امور کے متعلق بدرجہ اولی سامان کی ضرورت ہونی چاہیئے۔اگر کوئی عبودیت ان طریق پر نہیں کرتا تو پھر اس کی دُعا اور عبادت کا کوئی فائدہ نہیں۔بہت لوگ ہیں جب ہم سے دُعا کا ذکر سنتے ہیں یا مولوی صاحب کے یا حضرت صاحب کی تحریروں میں پڑھتے ہیں تو وہ یہی سمجھ لیتے ہیں کہ بس جو کچھ ہے وہ دُعاہی دُعا ہے۔اس بناء پر وہ کوشش اور محنت کو لغو ے حضرت مولوی نور الدین صاحب بھیروی خلیفہ اسیح اوّل۔