خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 306

خطبات محمود جلد (5) ۳۰۶ میں سے نہیں۔تو دشمنی اور عداوت کا بہت خطرناک نتیجہ نکلتا ہے اور اسی وجہ سے کئی لوگ بے دین ہو جاتے ہیں۔کل ہی ایک شخص کا خط آیا ہے۔چند دن ہوئے وہ یہاں آیا تھا کہتا تھا کہ مجھے میرا پوتا دیدیا جائے۔میں نے کہا بچہ کا رکھناماں کا حق ہے اگر وہ لے جانے کی اجازت دیتی ہے تو لے جاؤ۔اب اس نے جا کر لکھا ہے کہ تم نے تو قرآن ہی نیا بنالیا ہے۔اس کو ایک معمولی بات سے صدمہ پہنچا کہ کیوں خواہ بچے کی ماں روتی اور چلاتی ہی رہتی مجھے بچہ چھین کر نہیں دے دیا گیا۔اس وجہ سے اس نے لکھ دیا کہ تم نے قرآن ہی نیا بنالیا ہے۔اس سے پہلے تو میں جو کچھ کہتا اور کرتا تھا اسے وہ قرآن کریم کے مطابق سمجھتا تھا لیکن اس بات کے فوراہی بعد جو کچھ میں کرتا یا کہتا ہوں وہ قرآن کریم کے خلاف ہو گیا ہے اور میں نے نیا قرآن بنالیا ہے۔میری ہر بات اُسے بُری لگنے لگ گئی ہے۔تو دنیاوی عداوتوں کا ایمان پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور جب ایمان نہ ہو تو انسان جنت سے محروم رہ جاتا ہے۔دیکھو یہ چھوٹی سی بات تھی مگر انجام کس قدر بڑا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سلام کہنے کا نتیجہ آپس میں محبت ہوگی اور محبت کا نتیجہ ایمان ہوگا اور ایمان کا نتیجہ جنت میں داخل ہونا ہوگا۔اس کا اُلٹ یہ ہوا کہ سلام نہ کہنے کا نتیجہ تفرقہ ہوگا اور تفرقہ کا نتیجہ ایمان کا سلب ہونا ہوگا اور ایمان کے سلب ہونے کا نتیجہ جنت میں داخل نہ ہونا ہوگا۔تو سلام کہنا معمولی بات تھی لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان جنت سے ہی محروم ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس بات کو معمولی کر کے نہیں چھوڑ دیا بلکہ بیان کیا ہے اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور دُنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں اس تفصیل سے بیان کیا گیا ہوصرف اسلام کو ہی یہ شرف حاصل ہے۔اس بات پر اگر غیر مذاہب والے رشک کریں تو کیا تعجب کی بات ہے۔لیکن تعجب ہے اُن مسلمانوں پر جو باوجود ایسی تعلیم کے پھر اس پر عمل نہیں کرتے۔اسلام نے نہایت تفصیل سے کہہ دیا ہے کہ جب کسی کے ہاں جاؤ تو جا کر آواز دو یا دروازہ کھٹکھٹا ؤ جب اندر سے اجازت مل جائے تو داخل ہو ا جازت کے بغیر نہیں۔اور یہ بھی نہیں کہ اگر کوئی جواب نہ آئے تو الخاموشی نیم رضا پر عمل کر کے اندر چلے جاؤ۔یہ کسی کا قول ہے جو بہت دفعہ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔اسلام نے کنواری لڑکی سے نکاح کے متعلق پوچھنے پر خاموشی کو رضامندی قرار دیا ہے۔لیکن ہر جگہ یہ بات درست نہیں ہو سکتی۔پھر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گھر والا پوچھتا ہے کون ہے۔اس کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ بعض خاص آدمی ہوتے ہیں ان کے ملنے کے لئے اگر کوئی کام حرج بھی کرنا پڑے تو کر دیا جاتا ہے لیکن بعض کے ساتھ ملنا ضروری نہیں ہوتا اس لئے دریافت کیا جاتا ہے بخاری کتاب النکاح باب لا ينكح الاب وغيره البكر والقيب إلا برضاها۔