خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 262

۲۶۲ 31 خطبات محمود جلد (5) اولی الامر منکم کی اطاعت فرض ہے (فرموده ۲۹ ستمبر ۱۹۱۲ء) (النساء:۵۹-۶۰) تشہد وتعو ذاور سورہ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات پڑھ کر فرمایا :- إنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا ۖ وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللهَ نَعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًاه کسی قوم کی تباہی اور ہلاکت عام طور پر ان اندرونی اسباب کے ذریعہ ہوتی ہے جو خود اس میں پیدا ہو جاتے ہیں۔بیرونی سامانوں سے قوموں کا تباہ ہونا بہت کم پایا جاتا ہے اور شاذ و نادر ہی ایسا ہوا ہے کہ کوئی قوم واقعہ میں طاقتور اور مضبوط ہولیکن اس کے خلاف اس سے زیادہ طاقتور قوم زیادہ ساز وسامان کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہو اور اس نے اس کی طاقت کو توڑ دیا ہو۔عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ اسی وقت کوئی قوم تباہ و برباد ہوتی ہے جبکہ خود اس کے اندر کمزوریاں اور بدیاں پیدا ہوگئی ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے اوقات میں بیرونی سامان بھی اس کی تباہی کے ممد و معاون ہو جاتے ہیں۔مگر وہ کامیاب تب ہی ہوتے ہیں۔جبکہ اندرونی سامان اس قوم کو گھن کی طرح کھا چکے ہوتے ہیں۔اور وہ کھوکھلی اور کمزور ہو چکی ہوتی ہے اس کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے کہ ایک شخص ایک ایسے درخت کے سہارے کھڑا ہو جس کو گھن کھا چکا ہو اور وہ گر جائے۔وہ درخت گرا