خطبات محمود (جلد 5) — Page 242
خطبات محمود جلد (5) ۲۴۲ کی ہمدردی اور مدد اس پر فرض تھی اس نے کچھ خرچ نہیں کیا مگر پھر بھی وہ ایک حد تک معذور ہے کیونکہ جو خزانہ اس کے پاس ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو۔تا ہم خرچ کرنے سے کم ہو ہی جاتا ہے۔اور کسی انسان کے پاس کوئی ایسا خزانہ نہیں جو کم نہ ہوتا ہو۔سب سے بڑا خزانہ حکومتوں کا ہوتا ہے لیکن دیکھو اس کے کم ہونے کے بھی اسباب پیدا ہو ہی جاتے ہیں۔موجودہ جنگ میں ہی دیکھ لو گورنمنٹ برطانیہ کالے کروڑ روپیہ روزانہ کا خرچ ہے۔گو کوئی شخص گورنمنٹ جتنا مالدار نہیں ہو سکتا۔مگر فرض کر لو کہ اگر کسی کے پاس اتناہی خزانہ ہو تو بھی اس کے لئے ایسے مصارف نکل سکتے ہیں کہ وہ خرچ ہو سکتا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح اوّل رضی اللہ عنہ فرما یا کرتے تھے کہ ایک امیر جب مرا تو اس نے لاکھوں رو پیدا اپنے پیچھے چھوڑا۔اس کا ایک لڑکا تھا۔لڑکے نے اپنے دوستوں یاروں کو بلا کر مشورہ کیا کہ میرے پاس جو اس قدر روپیہ ہے اسے کس طرح خرچ کیا جائے کسی نے کوئی طریق بتا یا کسی نے کوئی۔لیکن اسے کوئی پسند نہ آیا۔ایک دن وہ بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک بزاز کے کپڑا پھاڑنے کی آواز اسے سنائی دی۔وہ آواز اسے ایسی پسند آئی کہ گھر آ کر کپڑے کے تھان منگوا منگوا کر پھڑوانے شروع کر دیئے۔اور چرچر کی آواز سننے لگ گیا۔اسی طرح اس نے اپنا سارا روپیہ برباد اور تباہ کر دیا۔اور تھوڑے ہی عرصہ میں مفلس اور نادار ہو گیا۔تو خواہ کسی کے پاس لاکھوں روپے ہوں یا کروڑوں۔پھر بھی ایسے مصارف نکل سکتے ہیں کہ وہ خرچ ہو کر اسے نادار بنا دیں۔اس لئے اگر کسی کے پاس خواہ کتنا ہی روپیہ ہو۔تا ہم اگر وہ یہ خیال کر کے کہ اگر میں اس میں سے خرچ کروں گا تو کم ہو جائے گا۔اس لئے خرچ نہیں کرتا تو ایک حد تک معذور ہے۔کیونکہ اس کا خزانہ ایسا ہے کہ ضرور خرچ ہو کر کم اور ختم ہوسکتا ہے۔لیکن جس طرح ہوا کا خزانہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔اس لئے اس میں جو بخل کرنے والا ہو بڑا ملزم ہے۔اسی طرح علم کا خزانہ ہے۔یہ بھی کبھی ختم نہیں ہوتا۔اس میں بھی بخل کرنے والا بہت بڑا مجرم ہے۔پھر علم کا خزانہ نہ صرف یہ کہ کم نہیں ہوتا بلکہ جتنا خرچ کیا جائے۔اتنی ہی زیادہ ترقی کرتا ہے اور دوسری چیزوں کے خلاف اس میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ خرچ کرنے سے خرچ ہو جاتی ہیں۔لیکن علم ایک ایسی دولت ہے کہ جتنا خرچ کیا جائے اتنا ہی 1