خطبات محمود (جلد 5) — Page 206
خطبات محمود جلد (5) ۲۰۶ کہ مرزا صاحب کے ذریعہ وفات مسیح کے سوا ہمیں اور کچھ نہیں ملا۔ان لوگوں کو دیکھ کر تم ان لوگوں کی حالت کا قیاس کرلو۔جو زمانہ نبوت سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔پس جب ان کے منہ سے الحمد للہ نہیں نکلتی۔تو اللہ تعالیٰ اپنا انعام ان سے چھین لیتا ہے پھر انہیں پتہ لگ جاتا ہے کہ ہماری عقل اور دانائی کچھ کام نہیں دے سکتی۔لیکن جس طرح بارش کے بند ہونے سے کنوئیں بھی خشک ہو جاتے ہیں اسی طرح روحانی بارش کے بند ہونے سے تمام روحانی چشمے خشک ہو جاتے ہیں پھر خدا تعالیٰ بارش نازل فرماتا ہے لیکن نادان انسان اصل بھیجنے والے کو پھر بھلا دیتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ روحانی خشکی کے وقت ضرور روحانی بارش نازل فرماتا ہے اور جو لوگ وہ زمانہ پاتے اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔وہ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ حمد ہی حمد کا زمانہ ہوتا ہے۔تمام دنیا کے لئے ایک حمد کا زمانہ تو وہ تھا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے پھر ایک یہ زمانہ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے ہیں اور جس کے پانے کا ہمیں موقعہ ملا ہے۔اس لئے ہمارے لئے کیا ہی حمد کا زمانہ ہے۔ہمارے دل سے کیسے جوش کے ساتھ حد نکلتی ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے شارع دیا۔تو ایسا کہ تمام انبیاء اس کے مقابلہ میں طفل مکتب ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ لَوْ كَانَ مُوسی وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی۔اگر عیسی اور موسیٰ زندہ ہوتے تو وہ بھی میرے ہی مدرسہ میں داخل ہوتے۔دیکھو موسیٰ علیہ السلام کی کتنی بڑی شان تھی۔مگر ان کے متعلق بھی آپ نے یہی کہا کہ اگر وہ آج زندہ ہوتے تو میرے سامنے زانوئے ادب خم کرتے۔لوگوں نے حضرت موسیٰ اور خضر کا یونہی ایک جھوٹا قصہ بنالیا ہے۔اصل بات کچھ اور ہے۔لیکن حضرت عبد القادر جیلانی کے متعلق لکھا ہے کہ ان کے پاس کشف میں خضر آیا۔انہوں نے اسے کہا کہ مجھے بھی موسیٰ“ نہ سمجھ لینا کہ تمہاری بات نہ سمجھ سکوں گا۔میں محمد ی سلسلہ کا فرد ہوں میں ان باتوں سے خوب واقف ہوں گے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کشف میں ہی دکھایا گیا تھا جس طرح حضرت موسیٰ ابن کثیر جلد ۲ ص ۲۴۶ حاشیہ الیواقیت والجواہر جلد ۲ ص ۲۲-۲