خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 204

خطبات محمود جلد (5) ۲۰۴ کوئی نعمت ہے لیکن جن لوگوں کو موتیا بند ہو جاتا ہے اگر چہ وہ ایک عارضی ہی پر دہ ہوتا ہے لیکن جو ڈاکٹر اس پردہ کو دور کر دیتا ہے اس کے سامنے اس کی آنکھیں اونچی نہیں ہو سکتیں۔کس قدر حیرت اور تعجب کا مقام ہے کہ اکثر لوگ اصل آنکھوں کے بنانے والے کے آگے اپنی گردنیں اونچی ہی رکھتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ اس نے ان کو چھین کر نہیں دیں۔بلکہ پہلے سے ہی دے رکھی ہیں۔مگر ایک ڈاکٹر اس وقت آنکھیں بناتا ہے جبکہ ان سے کچھ عرصہ کے لئے چھینی جا چکتی ہیں۔اس لئے اس کے شکر گزار ہوتے ہیں۔تو یہ ایک عام بات ہے کہ جو چیز پہلے نہ ہو اور پھر ملے۔اس پر لوگ خوش ہوتے اور اسے نعمت سمجھتے ہیں اور جو پہلے سے ہی انہیں ملی ہوئی ہو۔اس کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ کی بھی یہ ایک سنت ہے کہ ایک زمانہ میں وہ روحانی ترقیات کی طاقت بخشتا ہے مگر کچھ مدت کے بعد لوگوں کو اپنی عادت کے مطابق یہ گھمنڈ ہو جاتا ہے کہ خدا نے ہمیں کیا بتانا تھا یہ سب کچھ ہم نے اپنی عقل سے ہی تجویز کیا ہے گویا وہ اپنی نادانی سے دین کو اپنی ایک ایجاد سمجھ لیتے ہیں۔چنانچہ مسلمانوں پر بھی جب تصنیفات کا زمانہ آیا تو ان کے لئے خدا اور رسول اڑ کر صرف یہی رہ گیا کہ امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں۔امام حنبل یہ فرماتے ہیں۔یعنی ان کے دلوں میں خدا اور اس کے رسول کا کوئی احسان نہ رہا۔بلکہ اماموں کا ہو گیا۔اور وہ یہ سمجھنے لگ گئے کہ اگر یہ امام نہ ہوتے تو آج کچھ نہ ہوتا۔کہتے ہیں۔ایک پٹھان نے کسی کتاب میں پڑھا تھا۔نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ نہیں ہلانے چاہئیں۔ورنہ نماز ٹوٹ جاتی ہے۔پھر اس نے کہیں یہ پڑھا کہ آنحضرت نے ایک دفعہ نماز پڑھتے ہوئے کسی کے آواز دینے پر دروازہ کھول دیا۔تو کہنے لگا محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) کا نماز ٹوٹ گیا۔گویا اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک امام کے حکم کے ماتحت لانا چاہا۔حالانکہ امام ابوحنیفہ وغیرہ جس قدر بھی امام ہوئے ہیں وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خوشہ چین ہیں اور آپ باغبان۔امام مالک۔امام شافعی۔امام ابوحنیفہ۔امام حنبل یہ سب آپ کے خوشہ چین اور جاروب کش ہیں۔آپ کے باغ میں جھاڑو دے کر پھل جمع کر لانے کے علاوہ اور کیا کرتے ہیں۔مگر نادانوں اور کم عقلوں کے سامنے یہ جھاڑو دینے والے تو ہیں اور پھل پیدا کرنے والا اور ان کو پرورش دینے والا پوشیدہ ہے۔اس لئے ان کو نہیں دیکھتے۔ایسے ہی وقت میں خدا تعالیٰ