خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 195

خطبات محمود جلد (5) ۱۹۵ اور کمزوریوں سے منزہ سمجھنے کا نام ہے۔اس لئے تسبیح بھی اس میں شامل ہے۔اور یہ بھی ایک قسم کی حمد ہی ہوتی ہے ) خدا تعالیٰ کی حمد کر کے دعا کرنے سے بہت زیادہ دعا قبول ہوتی ہے۔پس انسان کو چاہئیے کہ دعا کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ کی حمد کرے اس کی عظمت اور جلال کا اقرار کرے اور اس کی تعریف بیان کرے۔اس طرح دعا بہت زیادہ قبول ہو جاتی ہے۔وجہ یہ کہ چونکہ بندہ خدا تعالیٰ کی صفات کو بیان کرتا اور اپنے آپ کو بالکل بیچ ظاہر کرتا ہے۔اس لئے وہ خدا جور حمن۔رحیم۔مالک۔خالق قادر ہے اور جس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آسکتی۔اس کی دعا کو قبول کر لیتا ہے۔جب ایک انسان کسی انسان کے سامنے اپنے آپ کو محتاج پیش کرتا اور اس کی تعریف و توصیف کرتا ہے تو اسے رحم آجاتا ہے اور وہ اس کی کچھ نہ کچھ مدد کر دیتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کے حضور جب کوئی انسان اپنی حالت زار کو پیش کرے۔اور اس کی حمد و تعریف بیان کرے تو کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی دعا کورڈ کر دے۔پس جب کوئی انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو بیان کر کے کچھ مانگتا ہے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا یہ محتاج بندہ جو کچھ مانگتا ہے وہ اسے دیا جائے۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے خدا تعالیٰ کی محبت جوش میں آتی ہے۔اسی طرح حمد کرنے سے اس کی غیرت جوش میں آتی ہے۔درود پڑھنے سے تو خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ یہ بندہ چونکہ ہمارے پیارے بندہ کے لئے دعا کرتا ہے کہ اس پر فضل کیا جائے اس لئے میں اس پر بھی فضل کرتا ہوں اور حمد کرنے کے وقت کہتا ہے کہ یہ میرا بندہ جو میری صفات بیان کر رہا ہے میں اس پر اپنی صفات ظاہر بھی کر دیتا ہوں تا اس کو عملی طور پر معلوم ہو جائے کہ جو کچھ وہ میرے متعلق کہتا ہے وہ سب درست ہے۔تو حمد خدا تعالیٰ کی سب صفات کو جوش میں لے آتی ہے اور سب صفات جمع ہو کر ایک طرف جھک جاتی ہیں تا کہ اس بندہ کا کام کر دیں۔اس کے علاوہ دعا کی قبولیت کے لئے یہ بھی یا درکھو کہ دعا کرنے سے پہلے اپنے کپڑوں اور بدن کو صاف کرو۔گو ہر ایک دعا کرنے والا نہیں سمجھتا اور نہ محسوس کرتا ہے مگر جو محسوس کرتے یا کر سکتے ہیں ان کا تجربہ ہے کہ جب انسان دعا کرتا ہے تو اسے خدا تعالیٰ کا ایک قرب حاصل ہو جاتا ہے اور اس کی روح اللہ تعالیٰ کے حضور کھیچی جاتی ہے گو دیکھنے والے کو معلوم نہیں ہوتا کہ خدا نظر آ رہا ہے مگر