خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 192

خطبات محمود جلد (5) ۱۹۲ اور کیا سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی توجہ بھی بے نتیجہ ہوسکتی ہے۔ہرگز نہیں۔ممکن ہے کہ تم جس انسان کی تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرو اس میں تمھیں کامیابی نہ ہو کیونکہ تم بندے ہو اور کسی بندے کے اختیار میں نہیں کہ جو کچھ کرنا چاہے اس میں کامیاب بھی ہو جائے۔لیکن خدا تعالیٰ کی وہ ذات ہے کہ وہ جس بات کو کرنا چاہے وہ ضرور ہی ہو جاتی ہے۔اس لئے تم کبھی یہ خیال مت کرنا کہ چونکہ تمہاری کوشش کامیاب نہیں ہوئی اس لئے خدا تعالیٰ بھی تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔کیونکہ جب خدا تعالیٰ تمہارا کام کرنے کا ارادہ کرے گا تو ضرور ہو جائے گاوہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔جس طرح چاہتا ہے ان سے کام لے لیتا ہے۔پس تم اس طریق کو ضرور استعمال کرو۔اس کے علاوہ :۔تیسرا طریق یہ ہے کہ وہ انسان جو اس درجہ کو نہ پہنچے ہوں کہ خدا تعالیٰ خود انہیں دعا ئیں سکھائے اور بتائے کہ یہ دعا کرو اور یہ نہ کرو۔وہ دعا کرنے سے پہلے کثرت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ انسان ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور تمام بنی نوع انسان سے زیادہ مقبول ہیں۔خواہ آپ سے پہلے گذرے یا بعد میں آئے۔یا آئندہ آئیں گے ہر ایک انسان کی نظر میں اس کا استاد یا اس کا خاندان کا بزرگ بڑا ہوتا ہے۔کہتے ہیں کہ رنجیت سنگھ کے مرنے پر بڑا واویلا مچا ہوا تھا۔پاس سے ایک چوہڑا گذر رہا تھا۔اس نے کسی کو کہا اتنی بڑی کیا آفت آ گئی ہے کہ سارا شہر پاگل بنا ہوا ہے۔اس نے کہا مہاراجہ رنجیت سنگھ مر گیا ہے۔یہ سنکر وہ ایک ٹھنڈا سانس کھینچ کر کہنے لگا۔باپوجی جیسے مر گئے تو رنجیت سنگھ کون تھا جو نہ مرتا۔گویا اس کے نزدیک با پوجی اتنی حیثیت رکھتے تھے کہ رنجیت سنگھ جو اپنے وقت کا بادشاہ تھا۔کچھ حقیقت نہ رکھتا تھا۔یہ اس کے دل میں وہی جذ بہ کام کر رہا تھا جو اپنے بزرگوں کی محبت اور الفت کا ہر ایک انسان میں ہوتا ہے۔مذاہب میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔دیکھو باوجود اس کے کہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ تھے مگر اس محبت اور الفت نے جو اپنے استاد یا بزرگ سے ہوتی ہے عیسائیوں کو ایسا مجبور کیا کہ انہوں نے ان کو حضرت موسی سے بہت زیادہ بڑھا دیا۔تو میں نے جو یہ کہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سے پہلے آنے والوں اور اپنے سے بعد میں آنے والوں میں سے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ