خطبات محمود (جلد 5) — Page 169
خطبات محمود جلد (5) ۱۶۹ اس زمانہ میں میں نے دیکھا ہے۔بغاوت کا مادہ عجیب عجیب رنگ میں پھیلایا جاتا ہے اور ایسے ایسے خوش رنگ میں پیش کیا جاتا ہے کہ بعض لوگ اس کو مفید اور کار ثواب سمجھنے لگ جاتے ہیں اور ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ لوگ بغاوت کے لفظ تک کو حقارت سے دیکھتے تھے اور بڑے بڑے دکھ اور تکلیفیں اٹھاتے تھے مگر وفاداری کو نہیں چھوڑتے تھے۔مگر آجکل بغاوت کے مفہوم کی کچھ ایسی تعریف بدلی ہے کہ بعض نادان اسے اعلیٰ درجہ کا کام سمجھنے لگ گئے ہیں اور اس کا نام خدمت ملکی اور قومی جوش رکھ رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جو اپنی حفاظت کرتا ہؤ امارا جائے وہ شہید ہوتا ہے۔اس طرح انہوں نے بغاوت کو نہ صرف جائز قرار دے لیا ہے بلکہ بہت مفید اور کا ثواب سمجھ رکھا ہے اور اس طرح بہت لوگ دھو کہ میں آکر وہ کام کر گزرتے ہیں جو انہیں نہیں کرنے چاہئیں۔لیکن مج لَّا يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ الله۔جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔وہ خدا کا بھی نہیں ادا کر سکتا۔کیونکہ انسان کے انسان پر بہت تھوڑے احسان ہوتے ہیں جب وہ ان کو ہی نہیں ادا کر سکتا تو خدا تعالیٰ کے احسان جو ادا ہی نہیں ہو سکتے ان کے ادا کرنے کا تو وہ خیال بھی نہیں کرے گا۔پس جو شخص انسانوں کی بغاوت کرتا ہے ضرور ہے کہ وہ خدا کا بھی باغی ہوا اور یہ لازما ہے کہ وہ انسان جو اپنے محسن اور آقا کی بغاوت کرتا ہے کبھی خدا کی اطاعت نہیں کر سکتا صوفیا تو اطاعت کے معاملہ میں بہت ہی بڑھ گئے ہیں اور انہوں نے اپنے رنگ میں عجیب عجیب طرز پر مسائل لکھے ہیں۔احسان کی قدر کرنے اور اپنے محسن کے شکر گزار ہونے کے متعلق یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ اگر کوئی شخص دین کے معاملہ میں ماں باپ کی بغاوت اور نافرمانی کرے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ بوجہ اس کے کہ اس نے خدا کے لئے ماں باپ کی نافرمانی کی بخشا جائے گا۔مگر چونکہ اس نے ماں باپ کی نافرمانی کی ہوگی۔جو اس کے کسی گناہ ہی کا موجب ہے۔کیونکہ اگر کوئی گناہ نہ ہوتا تو اسے ایسا موقع ہی پیش نہ آتا کہ اسے نافرمانی کرنی پڑتی۔اس لئے مجمع بحارالانوار جلد ۲ باب الستین۔