خطبات محمود (جلد 5) — Page 164
خطبات محمود جلد (5) ۱۶۴ قبول نہ ہو۔درد اور کرب کی دعا تو ضرور ہی سنی جاتی ہے چنانچہ حضرت یونس کی قوم کی نسبت لکھا ہے کہ وہ تباہ ہونے لگی تھی اور اخیر وقت تک حضرت یونس سے ٹھٹھے کرتی رہی لیکن جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے تو وہ اپنے جانوروں بیوی بچوں کو لے کر باہر نکل گئے۔اور جنگل میں جا کر جانوروں کے آگے سے چارہ ہٹا لیا۔اور بچوں کو ماؤں سے الگ کر دیا۔اور مرد و عورت سب اعلیٰ لباس اتار کر سادہ کپڑے پہن کر دعائیں کرنے لگے ادھر جانوروں اور بچوں نے چیخنا شروع کر دیا ادھر مردوں عورتوں نے رو رو کر دعائیں مانگیں۔ان کی اس حالت کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے ان کو بخش دیا اور ان سے عذاب ٹل گیا۔حالانکہ وہ نہ ٹلنے والا عذاب تھا۔اے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے معاف کرنے کو ایک خاص بات قرار دیا ہے ہے۔جس کی وجہ یہی تھی کہ وہ سب اکٹھے ہو کر خدا کے حضور جھک گئے تھے۔رمضان میں مسلمانوں کی حالت بھی گویا یونس کی قوم کی حالت ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی کہ البہی میری ساری امت تباہ نہ ہو اور خدا نے قبول کر لی تھی ہے۔میرے خیال میں آپ کی امت کے تباہ نہ ہونے کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے۔کہ مسلمان رمضان میں جو دعائیں کرتے ہیں وہ قبول کی جاتی ہیں۔پس رمضان کا مہینہ دعاؤں کے قبول ہونے کے لئے ایک خاص وقت ہے۔نادان ہے جو اس کو غفلت میں کھودے اور بعد میں افسوس کرنے لگے۔کسی نے سچ کہا ہے۔مشتے کہ بعد از جنگ یادآید برکلہ خود باید زد۔جو گھونسا جنگ کے بعد یاد آئے اسے اپنے سر پر مارنا چاہئیے۔یہ دس دن ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ۔اپنے لئے اسلام کی ترقی کے لئے۔جماعت کی ان مشکلات کے دور ہونے کے لئے جو اس کے رستہ میں حائل ہیں۔خدا کے فضل کے شامل حال ہونے کے لئے دعائیں کرنے کا یہ تمھیں موقعہ ملا ہے۔ماہ رمضان میں ان لوگوں کو بھی جاگنے کا موقع مل جاتا ہے جنہیں عام طور پر جاگنے کی عادت نہیں ہوتی۔اس لئے انہیں بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔خدا تعالیٰ کے رحم اور نوازش کو دیکھو لے بائیبل۔یونا نبی کی کتاب باب ۳۔یونس:٩٩۔مسلم كتاب الفتن باب هلاك هذه الامة بعضهم ببعض۔