خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 132

خطبات محمود جلد (5) ۱۳۲ تھی کہ خدا کا نام دنیا میں پھیلے۔اس کو خدا کا منکر کہا گیا۔پھر وہ جو خود وحی اور الہام کا مدعی تھا اس کے متعلق کہا گیا کہ اس کا عقیدہ بر ہموؤں کی طرح ہے پھر کہا گیا کہ یہ حضرت مسیح کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ جو آپ مسیحیت کا مدعی ہو وہ حضرت مسیح کو گالیاں دے۔اور برا بھلا کہے۔کیا کوئی شریروں اور گندے لوگوں کی طرف اپنے آپ کو نسبت دیا کرتا ہے۔مصر میں قبطی لوگ رہتے ہیں وہ اپنے آپ کو فرعون کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اپنے نام یوسف فرعون۔ابراہیم فرعون وغیرہ رکھتے ہیں۔لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فرعون بہت اچھا اور نیک آدمی تھا۔مگر فرعون کا نام مسلمانوں کے نزدیک گندا ہے اس لئے کوئی مسلمان ایسا نہیں کرے گا تو جو شخص اپنے آپ کو کسی کی طرف منسوب کرتا ہے وہ کس طرح اسے گندا کہ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تو دعوی ہی یہ تھا کہ میں مثیل مسیح ہوں پھر آپ حضرت مسیح کو برا بھلا کس طرح کہہ سکتے تھے۔پھر یہ کہا گیا کہ مرزا صاحب اہل بیت کے دشمن ہیں۔حالانکہ آپ نے اپنے کمالات کی ابتداء اس طرح بیان فرمائی ہے کہ ہمارے گھر میں اہل بیت تشریف لائے یعنی وہی جن کو شیعہ پختن کہتے ہیں اور اہلبیت قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد علوم باطنی مجھ پر کھلے۔پس جو شخص اپنے علوم باطنی کے حاصل ہونے کی بنیاد ہی اس بات پر رکھتا ہے کہ اہل بیت ہمارے گھر میں آئے وہ ان کی ہتک کس طرح کر سکتا ہے۔غرضیکہ اس قسم کے اور بہت سے الزام آپ پر لگائے گئے۔حضرت مسیح سے بھی ان کے مخالفین نے یہی سلوک کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوں۔اس سے ان کی مراد روحانی بادشاہ ہونے کی تھی لیکن انہوں نے شور مچادیا کہ یہ خود بادشاہ بنتا ہے اور قیصر کا باغی ہے چنانچہ انہوں نے اپنی اس بات کو مضبوط کرنے کے لئے ایک دفعہ ایک چالا کی کی مگر خدا تعالیٰ کے انبیاء بڑے عقلمند اور دانا ہوتے ہیں حضرت مسیح ان کی چال میں نہ آئے انہوں نے آکر پوچھا کہ ہم ٹیکس کس کو دیں یعنی انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ہمیں منع کر دیں گے کہ قیصر کو نہ دو۔اس طرح ان کو گرفتار کرا دیں گے حضرت مسیح نے جواب دیا کہ ستہ پر کس کی تصویر ہے انہوں نے کہا قیصر کی۔فرمایا پس جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو۔اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو (متی ۲۱ / ۲۲) یعنی