خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 4

خطبات محمود جلد (5) وہ کپڑے ہیں جن میں کسی قدر ریشم تھا۔ورنہ خالص ریشم کے کپڑے سوائے کسی بیماری کے مردوں کو منع ہیں) آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ان لوگوں پر خاک پھینکو اور ان سے کہا کہ تم اب ایسے آسائش پسند ہو گئے ہو کہ ریشمی کپڑے پہنتے ہو۔اس پر ان میں سے ایک نے اپنا گر تا اٹھا کر دکھایا تو معلوم ہوا کہ اس نے نیچے موٹی اون کا سخت کرتا پہنا ہوا تھا۔اس نے حضرت عمرؓ کو بتایا۔کہ ہم نے ریشمی کپڑے اس لئے نہیں پہنے کہ ہم ان کو پسند کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ اس ملک کے لوگوں کی طرز ہی ایسی ہے اور یہ بچپن سے ایسے امراء کو دیکھنے کے عادی ہیں جو نہایت شان وشوکت سے رہتے تھے۔پس ہم نے بھی ان کی رعایت سے اپنے لباسوں کو ملکی سیاست کے طور پر بدلا ہے۔ورنہ ہم پر ان کا کوئی اثر نہیں۔ا پس صحابہ کا عمل بتاتا ہے کہ اسراف سے کیا مراد ہے اس سے یہی مراد ہے کہ مال ایسی اشیاء پر نہ خرچ کرے جن کی ضرورت نہیں اور جن کا مدعا صرف آرائش وزیبائش ہو۔غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عباد الرحمن وہ ہوتے ہیں جو اپنے مالوں میں اسراف نہ کرتے ہوں وہ اپنے مالوں کو ریا اور دکھاوے کے لئے خرچ نہ کرتے ہوں بلکہ فائدہ اور نفع کے لئے صرف کرتے ہوں۔پھر اپنے مالوں کو ایسی جگہ دینے سے نہ روکیں جہاں دینا ضروری ہو اور ان کا قوام ہو یعنی درمیانی ہو۔نہ اپنے مالوں کو اس طرح لٹائیں۔جو اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت نہ ہو۔اور نہ اس طرح روکیں کہ جائز حقوق کو بھی ادا نہ کریں۔یہ دو شرطیں عبادالرحمن کے لئے مال خرچ کرنے کے متعلق ہیں لیکن بہت لوگ ہیں جو یا تو اسراف کی طرف چلے جاتے ہیں یا بخل کی طرف۔اسراف کی مرض اس زمانہ میں بہت بڑھی ہوئی ہے۔بخل کی مرض بھی ہے۔مگر یہ مسلمانوں میں کم ہے اور آج کل تو مسلمان کی تعریف اور علامت ہی یہی مقرر کی گئی ہے۔کہ جو کچھ اس کے پاس آتا ہو کھاپی جائے اور جس قدر مال اس کے پاس ہو سب خرچ کر دے۔بخل ہنود کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگرمسلمان وہی سمجھا جاتا ہے جو دین و دنیا کے لئے کچھ نہ بچائے اور سب کچھ کھا جائے۔لیکن کیا الٹ بات ہے۔ادھر قرآن کریم تو کہتا ہے کہ مسلم وہ ہے جو اسراف نہ کرے مگر آج کل مسلمان وہ سمجھا جاتا ہے جو سب کچھ بیچ کر کھا جائے جتنا کوئی زیادہ اسراف کرے اتناہی ولی اللہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن وہ ہوتا ہے جو کبھی اسراف نہیں کرتا ا طبری بحوالہ الفاروق حصہ اوّل ص ۷۶ مصنفہ مولانا شبلی نعمانی۔