خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 123

خطبات محمود جلد (5) ۱۲۳ شاہدوں کے ذریعہ ہو جاتا ہے کہ کس کی بات ٹھیک ہے اور کس کی بھول اور نسیان کی وجہ سے ٹھیک نہیں۔اور بھولنے والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔دیکھو ایک حافظ قرآن نماز پڑھاتے ہوئے قرآن کریم میں غلطیاں کر جاتا ہے۔لیکن اس کے غلطی کرنے سے ایسا تو نہیں ہونا چاہیئے کہ اسے گردن سے پکڑ لیا جائے۔اور کہا جائے کہ تم نے شرارت سے غلط آیت بنالی ہے قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں ہے کیونکہ اس نے نسیان اور بھول کی وجہ سے ایسا کیا ہے نہ کہ شرارت سے۔اور کوئی حافظ دنیا میں ایسا نہیں ہے جو غلطی نہ کرے۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن کریم اُترا۔وہ بھی بھول کی وجہ سے پڑھنے میں غلطی کر جاتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے نماز پڑھائی تو قرآن پڑھنے میں غلطی کر دی۔جب نماز سے فارغ ہو چکے تو ابی بن کعب کو فر ما یا کہ تم نے مجھے غلط پڑھنے سے روکا کیوں نہیں۔انہوں نے عرض کی کہ حضور میں نے سمجھا کہ شائد خدا تعالیٰ نے اسی طرح یہ آیت نازل فرما دی ہے۔جس طرح حضور نے پڑھا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں غلطی سے عا گیا ہے تمھیں مجھے روکنا چاہیئے تھا۔لے تو نسیان سے کوئی آدمی بچا ہو انہیں ہے مگر جہاں کسی سے اختلاف ہوتا ہے اس بات کو نظر انداز کر کے جھٹ اس پر جھوٹ کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے۔ایک معاملہ میرے آگے پیش ہو ا تھا۔میں نے اس کا فیصلہ کیا۔وہ دونوں فریق ایک دوسرے کی نسبت یہی کہیں کہ وہ جھوٹ بولتا ہے اور ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ درست ہے پھر گواہوں سے پوچھا گیا تو ان کو بھی جھوٹا کہ دیا۔میں پوچھتا ہوں۔اگر تم اسی طرح ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دینے لگو گے تو بتلاؤ تم میں سچا کون ہوا۔تم سب میں اختلاف ہوتے ہیں جھگڑے ہوتے ہیں اگر اسی بات پر کوئی جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے تو تم سارے کے سارے جھوٹے ہوئے پھر حضرت مرزا صاحب کر کیا گئے کیا چار لاکھ کی جماعت جو آپ چھوڑ گئے تھے سب جھوٹوں کی جماعت تھی۔اس طرح ایک دوسرے پر الزام لگانے والے بلا واسطہ نہیں تو بالواسطہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کرنے والے ہیں۔مجھے ایسے لوگوں پر بڑا غصہ اور طیش آتا ہے کہ وہ کیوں ایسا کرتے ہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں میں ل بخاری کتاب الصلوۃ باب توجہ القبلۃ۔