خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 90

خطبات محمود جلد (5) فرماتا ہے آم نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجّار - (ص: ۲۹) کیا متقی اور فاجر برابر ہوتے ہیں۔یعنی نہیں ہوتے۔اس کے متعلق ہر ایک انسان اپنے نفس سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ بتاؤ تم سے خدا کا کیا معاملہ ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو کسی نہ کسی رنگ میں اپنے مخالف اور موافق لوگ نہ رکھتا ہو وہ اپنا اور اپنے مخالفوں کا اور اپنا اور اپنے ساتھیوں کا مقابلہ کر کے دیکھے۔کہ اگر ہر مصیبت اور ہر تکلیف اور ہر رنج کے وقت خدا مدد کرتا ہے اور کسی حالت میں خواہ رنج کی حالت ہو یا راحت کی وہ مجھے نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ دشمنوں پر فتح دیتا ہے اور برخلاف اس کے دشمنوں کو ذلیل نا کام اور نا مرا درکھتا ہے تو وہ سمجھ لے۔متقی اور فاجر برابر نہیں ہو سکتے۔مجھے سے چونکہ متقیوں والا سلوک ہو رہا ہے اور میرے مخالفین سے فاجروں والا اس لئے میں متقیوں میں شامل ہوں۔لیکن اگر اس سے فاجروں والا سلوک ہوتا ہو تو سمجھ لے کہ مجھ میں ضرور نقص ہے اس لئے مجھ سے ایسا سلوک ہو رہا ہے ورنہ نہ ہوتا اس سے ہوشیار ہو کر اپنی اصلاح کرنی شروع کر دے۔اگر کسی کی خدا تعالیٰ غم کی گھڑیوں میں مدد کرتا اور خوشی کی گھڑیوں میں ساتھ دیتا ہے۔اس کی کوششوں کو بار آور بنا تا اور اسے دشمنوں پر غلبہ دیتا ہے تو سمجھ لے کہ میں خدا کی رضا اور اس کے صحیح راستہ پر چل رہا ہوں۔اور اگر ایسا نہیں تو وہ سمجھ لے کہ مجھ میں نقص ہے جس کی اصلاح کرنی چاہئیے۔تو اس آیت کی وجہ سے ہر ایک انسان کے لئے اپنے نفس کا موازنہ کرنا آسان ہو گیا۔وہ دیکھ سکتا ہے کہ میں مؤمنانہ راستہ پر چل رہا ہوں یا کافرانہ پر۔متقیا نہ قدم اٹھا رہا ہوں یا فاجرانہ۔اس میں شک نہیں کہ مومنوں اور متقیوں پر بھی مصائب آتے ہیں لیکن ایک مومن کو خدا تعالیٰ دشمن کے مقابلہ میں کبھی اس طرح نہیں گرا تا کہ اسے کسی گناہ کا مرتکب ہونا پڑے۔یہ مومن اور کا فرمتقی اور فاجر کے مصائب میں فرق ہے۔مومن اور متقی کو کسی بڑی سے بڑی مصیبت کے وقت بھی کسی قسم کے فریب۔دعا اور حیلہ سازی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ان باتوں پر خدا اسے کامیابی دیتا ہے۔مگر ایک کافر اور فاجر پر جب ایک مصیبت آتی ہے تو وہ گناہ کی طرف لوٹتا ہے اور گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔پس جب کوئی شخص مصیبت کے وقت ایسا کرتا ہے وہ دیکھے کہ اس کے اندر گناہ کا مادہ تھا۔تب ہی وہ گناہ کی طرف لوٹا ہے۔