خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 72

خطبات محمود جلد (5) ۷۲ کے متعلق ہی ہے۔فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم کمزور ضعیف ہو جاؤ گے۔تمہاری طاقت تمہارا رعب مٹ جائے گا۔ریح کے معنی ہر پاکیزہ اور محمدہ چیز (۲) قوت (۳) غلبہ۔(۴) خوشی کے ہیں۔اس لئے یہ معنی ہوئے کہ اگر تم آپس میں جھگڑا کرو گے تو تمہاری خوشی۔غلبہ۔قوت مٹ جائے گی اور تمھارے اندر کوئی اچھی بات نہ رہے گی۔ہر ایک کام کے لئے ایک وقت ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم دشمن کے مقابلہ پر کھڑے ہو تو اس وقت اگر کوئی مذہبی اختلاف پیدا ہو جائے تو اس پر جھگڑنا نہیں بلکہ اس وقت تمہارے یہی مد نظر ہونا چاہیے کہ جس طرح بھی ہو سکے دشمن کو کچل دیا جائے۔کیونکہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کے فیصلہ کا وہ وقت ہوتا ہے جبکہ دشمن مقابلہ سے بھاگ جائے اور امن واطمینان حاصل ہو جائے۔ہاں ایسی باتیں جن کی وجہ سے دین میں حرج واقعہ ہوتا ہو تو ان کا فیصلہ ایسے موقعہ پر بھی کر لینا ضروری ہے۔مثلاً کوئی شخص نماز نہ پڑھے اور جب اسے کہا جائے کہ نماز پڑھو تو کہدے کہ دیکھو یہ دشمن سے مقابلہ کا وقت ہے اس وقت یہ بات کر کے اختلاف نہ ڈالو۔تو ایسے شخص کا مقابلہ کرنا چاہئیے کیونکہ وہ مسلمان نہیں بلکہ دشمن اسلام ہے۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ امر و نہی کے متعلق مسلمانوں کو سخت تاکید کی گئی ہے۔اور خدا تعالیٰ نے یہودیوں کی تباہی کی ایک یہ وجہ بھی بتائی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں کرتے۔پس جبکہ ایک طرف خدا تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے اور دوسری طرف یہ بھی فرماتا ہے وَلَا تَنَازَعُوا اور یہ بھی دین کے متعلق ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم امت محمد یہ کی تباہی کا وہی وقت بتاتے ہیں جبکہ علماء امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وعظ چھوڑ دیں گے۔تو بظاہر اس میں اختلاف معلوم ہوتا ہے۔مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ باتیں جو قوم میں اختلاف کا باعث ہو کر اس کی تباہی کا موجب ہوتی ہیں اور فروعی مسائل سے تعلق رکھتی ہیں انہیں اس وقت تک چھوڑ دینے کا حکم ہے جب تک کہ دشمن پر کامیابی نہ حاصل ہو جائے۔پہلے بڑا کام دشمن کا مقابلہ ہے اس کے بعد چھوٹی چھوٹی باتوں کو دیکھا جائے گا۔ان دونوں قسم کے احکام کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے دینی مسائل جو اصول دین سے عقائد سے عبادات وسیاستِ اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کا اثر ایسے مسائل پر پڑتا ہے جن سے اسلام میں رخنہ پڑ سکتا ہے ان سے روکنے کا حکم ہے کیونکہ ایسے لوگ مسلمان