خطبات محمود (جلد 5) — Page 64
خطبات محمود جلد (5) ۶۴ ڈور سے اس کے بچانے کے لئے دوڑے گا تو وہ گر جائے گا۔اور اگر کوئی پاس ہی کھڑا ہوتو وہ اسے بچا لے گا۔یہی حال خدا تعالیٰ کا ہے خدا تعالیٰ تو کرنے والے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے اس لئے اسی سے عرض کرنی چاہیے کہ آپ ہی ان گرنے والوں کو بچاہیے۔وہ لوگ جو ضلالت میں گر کر ہلاک ہور ہے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور عرض کریں کیونکہ وہی ان کو بچا سکتا ہے خدا تعالیٰ چونکہ اپنے بندوں کو انعام اور مدارج دینا چاہتا ہے اس لئے ان کے ذریعہ کام کراتا ہے۔ورنہ اصل میں وہ کرتا آپ ہی ہے۔انسان کا اپنی محنت اور کوشش پر بھروسہ کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔کیا ایک شخص تلوار لے کر کروڑ دو کروڑ کے لشکر میں چلا جائے تو کوئی خیال کر سکتا ہے کہ وہ ان پر فتح پالے گا۔ہرگز نہیں۔حالانکہ تلوار کا مارنا آسان ہے بہ نسبت عقائد کے بدل دینے کے۔پس جب انسان تلوار سے اتنے دشمنوں کو قتل نہیں کر سکتا۔تو اتنے لوگوں کے عقائد اور خیالات کو بدل دینا کہاں اس کی طاقت میں ہے۔ہمارے جو مبلغ دیگر ممالک میں گئے ہوئے ہیں ان کی مشکلات کا اندازہ بھی اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے سامنے اتنے بڑے ملک میں اتنے مذاہب کا مقابلہ ہے اور وہ بھی ایسی صورت میں جبکہ اسلام بہت سی قربانیاں چاہتا ہے۔ایک چھوٹے سے مذہب کے پھیلانے میں بہت آسانی ہے کیونکہ اس کے لئے کوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی۔پھر اس کے پیروؤں کو لوگوں کے کھینچنے کے لئے کئی قسم کے سامان میتر ہیں۔مگر ہمارے پاس تو وہ سامان بھی نہیں اور نہ اسلام میں وہ آسانیاں ہیں جو ایک اور مذہب میں ہوسکتی ہیں ہمارے پاس تو صرف صداقت ہی ہے۔لیکن جو شخص گمراہی میں پڑا ہو اہو اس کو اس وقت تک یہ بھی نظر نہیں آتی۔جب تک اللہ تعالیٰ ہی اس کو نہ دکھائے۔اس لئے ہمیں اگر کوئی چیز کا میاب کر سکتی ہے تو وہ دعا ہے۔اور جب دعا قبول ہو جائے تو پھر لاکھوں انسان فوراً ہدایت پالیتے ہیں۔صحابہ کرام بھی تبلیغ کرتے تھے مگر ان کی اصل تبلیغ دعا ہی تھی۔میں یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہوں کہ چند سال میں کس طرح کروڑوں انسان مسلمان ہو گئے لیکن سوائے اس کے نہیں کہ دعاؤں کے ذریعہ ہوئے۔ورنہ اس وقت تو بہت دقتیں تھیں۔جب کوئی مسلمان ہوتا تو اُسے جان دینے کے لئے نکلنا پڑتا۔زکوۃ کے علاوہ اور ٹیکس بھی ادا کرنے پڑتے۔اپنی عادتیں چھوڑنی پڑتیں۔خیالات بدلنے پڑتے۔رشتہ داروں اور عزیزوں سے