خطبات محمود (جلد 5) — Page 61
خطبات محمود جلد (5) ۶۱ ہو جائے۔مگر بجائے اس کے کہ اس کو ہدایت ہو وہ زیادہ گمراہ ہو جاتا ہے اور بجائے قریب ہونے کے دور ہو جاتا ہے۔بجائے سمجھنے کے اس کی پہلی عقل بھی ماری جاتی ہے بجائے ہدایت پانے کے ضلالت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔تو تبلیغ کا کام سب سے زیادہ مشکل کام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے اور وہی اس کو کر سکتا ہے اس لئے وہ جماعت جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کام کو لے کر کھڑی ہوئی ہو۔اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور گر جائے۔اور اس سے مدد چاہے کیونکہ دل کے خیالات جاننے والا اور ہدایت کا راستہ دکھانے والا صرف وہی ہے وہی مبلغ کی زبان میں اثر ڈالتا ہے وہی مبلغ کو ایسی باتیں سمجھا دیتا ہے۔جن سے سنے والوں کو ہدایت نصیب ہوتی ہے۔اور وہی علاج بتا تا ہے جس سے روحانی مریض شفا پاسکتے ہیں۔میں نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بیسیوں آدمیوں سے سنا ہے۔ہوں گے تو ہزاروں۔مگر میں نے بیسیوں سے سنا ہے کہ ہم جو اعتراض اور شکوک اپنے دل میں لے کر آئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کوئی اتفاقا تقریر فرمائی تو اس میں ہمارے سب اعتراضوں کے جواب آگئے اور ہمیں ہدایت نصیب ہو گئی۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے۔اس سے جب کسی انسان کا تعلق ہوتا ہے تو وہ خود اس کو ایسی باتیں بتا دیتا اور اس کی زبان پر جاری کر دیتا ہے جس سے لوگوں کے شکوک رفع ہو جاتے ہیں۔اور وہ ہدایت پالیتے ہیں۔پس چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس لئے مبلغ جماعت کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ ہر وقت دعاؤں میں لگی رہے۔ہماری جماعت کا کام اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانا اور اس کے جلال اور عظمت کو ظاہر کرنا ہے اس لئے ہماری جماعت کو دعاؤں پر بہت زور دینا چاہیئے۔بڑے بڑے لیکچرار کچھ کام نہیں کر سکتے۔کیا عیسائیوں۔آریوں۔برہموؤں اور دہریوں میں بڑے بڑے لیکچرار نہیں ہیں۔ضرور ہیں اور وہ ایسی چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں کہ ایک صادق انسان بھی حیران ہو جاتا ہے کہ ان کا کیا جواب ہے۔لیکن کیا ان کے ذریعہ کسی کو ہدایت نصیب ہو سکتی ہے۔ہرگز نہیں۔ہدایت دینا خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔جب تک وہ کسی کو ہدایت نہ دے کوئی اور سبیل نہیں ہوسکتی۔اس لئے مبلغ کا یہ کام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگے اور یہ نہ صرف مبلغ کا کام ہے۔بلکہ ہماری جماعت کے ہر ایک فرد کا کام ہے۔ہماری تمام جماعت تو