خطبات محمود (جلد 5) — Page 57
خطبات محمود جلد (5) ۵۷ میں پھیلا۔عرب اس بات کو خوب جانتے تھے اور انہوں نے اس بات پر خوب عمل کیا۔اسی لئے جہاں جہاں عرب حکومت قائم ہوئی۔وہاں دوسری نسلیں مٹ گئیں۔ہندوستان میں مغل پٹھان لوگوں کی سلطنت ہوئی انہوں نے اس بات پر عمل نہ کیا۔اگر چہ انہوں نے دوسری قوموں پر ظلم بھی کیا۔جبر بھی کیا لیکن پھر بھی یہاں دوسری قو میں کم نہیں ہوئیں لیکن عرب لوگوں کی سلطنت کے ماتحت باوجود اعلیٰ درجے کے امن اور لا اکراه في اللين (البقره: ۲۵۷) پر عامل ہونے کے جہاں گئے اسلام وہاں بڑی ترقی کر گیا۔اور دوسری قومیں وہاں نابود ہو گئیں۔ہندوستان میں اسلامی سلطنت سات سو سال تک رہی لیکن اسلام یہاں اس قدر نہ پھیلا جتنا کہ پھیلنا چاہیے تھا۔اگر مسلمان یہاں بھی کثرت سے شادیاں کرتے تو سارا ہندوستان مسلمان ہو جاتا۔بادشاہوں نے یہاں شادیاں کثرت سے کیں لیکن عیاشی کے لئے۔جہاں عورت کے حقوق دوسری شادی کرنے پر نہ دیئے جائیں وہ شادی عیاشی کے لئے ہوتی ہے ایک شادی کی جاتی ہے اور دوسری سے تعلق توڑ لیا جاتا ہے۔راجوں اور نوابوں کا یہی حال ہے۔مگر اسلام نے جو شرائط لگائی ہیں ان سے عیاشی نہیں ہو سکتی۔اسلام تو کہتا ہے کہ خواہ دوسری عورت سے تمہیں کتنی ہی محبت ہو لیکن تمھیں ذرا ذرا بات میں دونوں سے ایک جیسا سلوک چاہیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سب بیبیوں سے پیاری تھیں یہ بات پوشیدہ نہ تھی سب جانتے تھے۔اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ میں تمہارا وظیفہ بڑھانا چاہتا ہوں کیونکہ رسول اللہ تم سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے۔حضرت عائشہ نے جواب دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کو برابر حصہ دیتے تھے تم مجھ کو زیادہ حصہ دینے والے کون ہو۔صحا بہ بھی اس بات کو جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ سے زیادہ پیار رکھتے ہیں اور سب عورتوں سے ایک جیسا سلوک کرتے ہیں۔اس لئے جب حضرت عائشہ کی باری ہوتی تھی تو ہدیہ آپ کے پیش کیا کرتے تھے۔لے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیماری میں بھی اپنی مرضی سے۔ه بخاری کتاب المناقب باب فضل عائشة رضى الله عنها