خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 623

خطبات محمود جلد (5) ۶۲۲ مضبوط سہارے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اور ان جماعتوں کا سہارا دعا ہوا کرتی ہے۔اسی کے ذریعہ انہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ہم بھی چونکہ ایک نبی کی جماعت ہیں اور اس وقت ہماری ابتدائی حالت ہے اس لئے ہمیں دعاؤں کی سخت ضرورت ہے۔اگر کوئی ایسی قوم جو دولتمند اور دنیاوی لحاظ سے طاقتور ہو۔دُعا سے استغنا کرے۔گو خدا تعالیٰ سے کوئی بھی استغناء نہیں کرسکتا۔مگر وہ بظاہر نظر معذور کہی جاسکتی ہے۔لیکن ہم جن کی کہ ابتدائی حالت ہے۔ہم استغناء نہیں کر سکتے۔ہماری حالت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ خدا کے حضور دعائیں کرتے رہیں۔چونکہ درد اور تکلیف میں دُعا زیادہ قبول ہوتی ہے اور ہماری ایسی ہی حالت ہے۔اس لئے ہمارے لئے یہ موقع ہے کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور دعاؤں میں لگ جائیں۔اس وقت جو میں نے آیت پڑھی ہے۔اسمیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کہ اگر میرے بندے مجھ سے دعا کریں تو میں انکی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہوں پس جب قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے۔اور ادھر ہماری یہ حالت ہے۔تو ہمیں اس موقعہ سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔اس موقعہ کو ضائع کرنا نادانی ہوگی۔اور یہ ایسی ہی بات ہوگی کہ ایک انسان سخت پیاسا ہو۔اور اسے پانی بھی ملتا ہو لیکن وہ پیئے نہ۔ہم پیاسے بھی ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے پانی بھی مہیا کیا ہوا ہے۔اور وہ دینے کو تیار بھی ہے۔پھر اگر ہم اُسے نہ پئیں تو کتنا افسوس کا مقام ہوگا۔پس اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیئے۔بلکہ خاص طور پر اپنے لئے۔اپنی جماعت کیلئے۔اسلام کی اشاعت کیلئے دعائیں کرنی چاہئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سفر میں دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں اے اس لئے میں آج آپ لوگوں کو جو ہزارہا یہاں موجود ہیں۔تحریک کرتا ہوں کہ خوب دعائیں کریں بہت لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ سفر میں دعا ئیں کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔انکی ایسی ہی مثال ہے کہ یوں تو وہ اپنے پاس دوائی کی بوتل رکھتے ہیں۔لیکن جب بیمار ہوں اُسوقت اُسے پرے پھینک دیتے ہیں۔تو سفر میں کئی لوگ نمازیں پڑھنے اور دعائیں کرنے میں سستی کرتے ہیں۔حالانکہ یہی وقت خاص طور پر قبولیت کا ہوتا ہے۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے ترمزی کتاب الدعوات باب ما يقول إذا ركب الناقة