خطبات محمود (جلد 5) — Page 622
خطبات محمود جلد (5) کا بیٹا خلیفہ ہو سکتا ہے ؟ ! ۶۲۱ ان کا یہ کہنا شہادت ہے اس بات کی کہ ان پر اسلام نے کس قدر بڑا احسان کیا تھا۔ ہو سکتا تھا کہ انکا نفس انہیں بڑا بنا کر دکھاتا۔ پھر وہ اولین صحابہ میں سے نہ تھے۔ بلکہ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے تھے۔ ایسے آدمی کا نفس بالکل مردہ نہیں ہو سکتا۔ اسلئے وہ تو انہیں بڑا بنا تا ہوگا۔ مگر باوجود اسکے کہ انکے بیٹے کا خلیفہ بننا اتنا بڑا انعام اور احسان تھا کہ وہ سمجھ ہی نہ سکتے تھے کہ میرے بیٹے کو یہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے بتانے والے کو کہا کہ تمہیں غلطی لگ گئی ہے۔ اس ایک مثال سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس طرح اسلام کے احسانات کے نیچے انکی گردنیں جھکی ہوئی تھیں ۔ اس قسم کی ایک اور مثال سناتا ہوں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جو قاضی مقرر کئے گئے ۔ ایک دفعہ دربار لگائے بیٹھے تھے کہ ایک نہایت قیمتی رومال نکال کر اس میں تھو کا۔ اور اپنے آپکو کہا۔ واہ واہ ابوہریرہ اب تو بھی بڑا بن گیا۔ حاضرین نے پوچھا آپ کے اس کہنے کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ پہلے میرا کیا حال تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق کی وجہ سے آپ کے دروازہ پر بیٹھا رہا کرتا تھا۔ اس وقت ہمارے گھرانہ کی اتنی بھی کا ئنات نہ تھی کہ مجھ اکیلے کو روٹی ہی کھلا سکتے اور کسی سے سوال کرنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہوا تھا۔ اس لئے سات سات وقت میں بھوکا رہتا اور جب انتہائے بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر جاتا تو لوگ جوتیاں مارا کرتے تھے۔ ( عرب میں رواج تھا کہ مرگی کے مریض کو جوتیاں مارا کرتے تھے تا کہ اچھا ہو جائے ۔ ان کے ساتھ بھی مرگی کا مریض سمجھ کر یہی سلوک کرتے تھے مگر آج اسلام کے طفیل خدا نے وہ عزت دی ہے کہ یہ رومال جو میرے ہاتھ میں ہے۔ اور جس میں میں نے تھوکا ہے ایران کے بادشاہ کسریٰ کا ہے۔ جسے وہ دربار کے وقت ہاتھ میں رکھا کرتا تھا۔ ہے تو صحابہ کہاں تھے لیکن اسلام نے کہاں تک پہنچا دیا۔ غرض ابتدائی حالت انبیاء کی جماعتوں کی بہت کمزور ہوا کرتی ہے۔ جو سنت اللہ ہے۔ اور کمزوری کی حالت میں انسان کو بہت - تاریخ الخلفاء کانپوری ص ۵۳ حالات سید نا ابوبکر فصل فی مبایقه ہے ۔ بخاری کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة باب ما ذكر النبي وحض على اتفاق اهل العلم -