خطبات محمود (جلد 5) — Page 621
خطبات محمود جلد (5) ۶۲۰ اعلیٰ مراتب پر پہنچایا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھئے۔آپ کے زمانہ میں چونکہ ترقی نہایت سرعت کے ساتھ ہوئی ہے۔اس لئے انکی نظیر نہایت بقین اور صاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہونے والے لوگ کون تھے۔یہی کوئی اونٹوں کے چرانے والا۔کوئی معمولی دوکاندار کوئی معمولی زمیندار۔مگر اسلام میں داخل ہو کر جانتے ہو کیا سے کیا ہو گئے۔اسلام نے انہیں حکمران اور بادشاہ بنا دیا۔لیکن چونکہ وہ نہایت ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اسلام کی خدمت کرنے کی وجہ سے اعلیٰ درجہ پر پہنچے تھے۔اسلئے انکا نفس یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں نے کچھ کیا ہے۔بلکہ ان کے شکر گزار دل سے یہی آواز نکلی تھی کہ ہم پر خدا نے فضل کیا ہے۔اور انکی گردنیں اسلام کے احسانات کے بار سے جھکی ہوئی تھیں۔اور وہ اقرار کرتے تھے کہ اسلام لانے کی وجہ سے ہم پر یہ انعام ہوئے ہیں۔کسی انسان کو سب سے بڑا سمجھنے والا اسکا اپنا نفس ہوتا ہے۔چنانچہ کوئی ذلیل سے ذلیل قوم ایسی نہیں جو اپنے آپکو اعلیٰ نہ سمجھتی ہو۔اور دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں ادنیٰ سے ادنی جوتو میں کہی جاتی ہیں۔ان کے کسی انسان کو بھی اگر کسی اعلیٰ کہلانے والی قوم سے رشتہ کیلئے کہا جائے تو وہ کہ دیتا ہے کہ اس طرح ذات بگڑ جاتی ہے۔تو سب سے زیادہ انسان کا نفس اسکی عظمت اور بڑائی کا بیان کرنے والا ہوتا ہے۔لیکن میں آپ لوگوں کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔اس سے معلوم ہو جائے گا کہ کس طرح اسلام کے احسانات کے نیچے عربوں کی گردنیں خم تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلافت کے مقام پر کھڑے ہوئے تو انکے والد کو کسی نے جا کر کہا کہ آپکا بیٹا خلیفہ ہو گیا۔یہ سُن کر بلحاظ اس قاعدہ کے انسان کا نفس اپنی تعریف چاہتا ہے۔طبعا یہ نتیجہ نکلنا چاہیئے تھا کہ وہ کہتے کہ واقعہ میں ہمارا ہی خاندان اس قابل ہے کہ اس سے خلیفہ ہو۔اور کون ہے جو اس منصب کو حاصل کر سکے۔مگر اسلام کا احسان ان پر اس قدر بھاری تھا کہ ان کے نفس کو ذرا بھی سر اٹھانے کی جرات نہ ہوئی۔کیونکہ انکی اپنی حالت دنیاوی لحاظ سے اتنی گری ہوئی تھی کہ نفس ان کو جتنا بھی بڑا بنا تا وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہمارا ہی خاندان اس قابل تھا کہ اس سے خلیفہ ہو۔چنانچہ انہوں نے نہ تو یہ کہا اور نہ ہی چپ رہے بلکہ سنانے والے کو کہا کہ تم کو غلطی لگی ہے۔کیا ابو قحافہ ( یہ انکا نام تھا )