خطبات محمود (جلد 5) — Page 609
خطبات محمود جلد (5) ۶۰۸ میں تبلیغ کے مسئلہ پر بہت غور کرتا رہا ہوں ۔ اس سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے موجودہ طرز تبلیغ کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکتے ۔ میں جانتا ہوں کہ اگر موجودہ چندہ دینے والے دُگنے بھی ہو جا ئیں تو بھی اس طریق پر کام خاطر خواہ نہیں ہو سکتا۔ غیروں سے تو ہم روپیہ نہیں مانگ سکتے ۔ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ جب ہم ان کے خیالات کو مٹانا چاہتے ہیں تو انہیں سے مدد مانگیں۔ اور وہ ہماری مدد کریں ۔ ہم انکے غلط عقائد کی بنیادوں کو گرانا چاہتے ہیں ۔ پھر ہماری غیرت کیسے تقاضہ کر سکتی ہے کہ انہیں سے جا کر سوال کریں۔ اور دنیا میں اس طرح کب ہوا ہے کہ کوئی کسی کو کہے کہ میاں چھری لانا۔ میں تیرے بیٹے کو ماروں ۔ وہ لوگ تو اپنے غلط عقائد کو صیح سمجھتے ہیں ۔ خواہ وہ کتنے ہی خلاف اسلام کیوں نہ ہوں ۔ مثلاً انکا یہ خیال کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ (نعوذ باللہ ) ایسی نہیں کہ جس سے کوئی کامل انسان پیدا ہو سکے ۔ پھر ان سے یہ بھی تو توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس حصہ میں ہی ہماری مدد کر سکیں جو ان میں اور ہم میں مشترک ہے۔ کیونکہ وہ اگر ایسے ہوتے تو پھر مسیح موعود کے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ لیکن مسیح موعود کا آنا بتا تا ہے کہ وہ دین کی خدمت کرنے کے لائق نہیں رہے تھے۔ اور یہ کام مسیح موعود کی جماعت کے ہی سپرد ہوا ہے۔ اور میں نے بتایا تھا کہ ہماری غریب جماعت جس قدر روپیہ محض تبلیغ اسلام کے لئے خرچ کرتی ہے۔ سارے مسلمان باوجود اپنی بڑی تعداد کے اتنار و پی اس غرض کے لئے نہیں خرچ کرتے۔ یہ لوگ کالج قائم کرتے ہیں۔ لیکن ان میں بجائے دیندارلڑ کے پیدا ہونے کے ایسے تیار ہوتے ہیں جو دین سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں ۔ پس ہم ان پر اُمید ہرگز نہیں رکھتے۔ اور نہ رکھ سکتے ہیں۔ فقط ہماری تو امید اللہ پر ہی ہے۔ لیکن ہمارے موجودہ ذرائع کافی نہیں ۔ اور ان ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے جو ہمیں در پیش ہیں۔ پس ایسے ذرائع سوچنے چاہئیں جن سے جماعت پر بوجھ بھی نہ بڑھے۔ اور ہم اپنے فرض کو بھی پورا کر سکیں۔ میں نے اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے تاریخ اسلام پر خوب نظر کی ہے۔ تو معلوم ہوا ہے کہ بعض ذرائع ایسے ہیں جن پر اسوقت تک عمل نہیں ہوا ۔ اسلام دنیا میں اس