خطبات محمود (جلد 5) — Page 594
خطبات محمود جلد (5) ۵۹۳ سمجھو۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا رسول یقین کرو اے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس : یہ وسلم کے اس جواب معلوم ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول ماننا خدا تعالیٰ کو ایک ماننے کے اندر داخل ہے۔ سے پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ ایک فقرہ جو مجمل اور مختصر طور پر بیان کیا جائے۔ گو بظاہر وہ ایک ہی بات نظر آئے۔ لیکن جب اس کے مفہوم کو وسیع کیا جائے تو اور بھی بہت سی باتیں اس میں شامل ہوتی ہیں ۔ اس بات کے ثابت ہو جانے کے بعد جب کلمہ شہادت پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ یہ کلمہ اگر چہ صرف دو جملوں سے مرکب ہے۔ لیکن اس میں اسلام کی ساری تعلیم کو خلاصہ رکھ دیا گیا ہے۔ اور جس طرح صرف لا إِلَهَ إِلَّا الله کے اندر مُحَمَّدٌ رَّسُول الله بھی آجاتا ہے۔ جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایسا فرمایا ہے۔ اسی طرح ان دونوں جملوں میں باقی تمام اسلام کی باتیں آجاتی ہیں۔ اگر انسان لا اله الا اللہ پر غور کرے تو خود بخود اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ رسولوں کا ماننا اس کے اندر آ جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا پتہ رسولوں کے ذریعہ لگتا ہے۔ اور اگر وہ نہ بتائیں تو پھر یہ معلوم نہیں ہو سکتا۔ دیکھئے ایک کمرہ کے اندر کچھ آدمی بیٹھے ہوں ۔ تو اس کمرہ سے باہر کے لوگ نہیں معلوم کر سکتے کہ اس کے اندر کوئی بیٹھا ہے یا نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اندر جا کر دیکھ آئے اور پھر آ کر بتائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ اتنے آدمی بیٹھے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ تو ایک پوشیدہ ہستی ہے۔ اس لئے لوگ نہیں جان سکتے کہ خدا ایک ہے یا زیادہ لیکن وہ انسان جو اس کی طرف سے بھیجا جاتا ہے۔ اور جس کا خدا تعالیٰ سے پورا پورا تعلق ہوتا ہے۔ وہ جب بتا تا ہے کہ خدا ایک ہے تو پھر لوگ لا إله إلا الله کا پورا اقرار کرتے ہیں ۔ پس خدا تعالیٰ کو ایک ماننے کے یہ معنی صاف طور پر معلوم ہو گئے کہ اسکا اقرار کرنے کے ساتھ ہی۔ اس انسان کے خدا کا رسول ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے۔ جس نے یہ بات بتائی ہو۔ کیونکہ اسکے بتائے بغیر یہ علم نہیں ہو سکتا کہ خدا ایک ہے :- بخاری کتاب العلم باب تحريض النبي وفد عبد القيس على ان يحفظوا الايمان والعلم ويخبر وا من ورائهم ۔