خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 592

۵۹۱ 81 خطبات محمود جلد (5) حق کے قبول کرنے میں کسی کی پروا نہیں ہونی چاہئیے۔فرموده ۱۶/ نومبر ۱۹۱۷ء بمقام دیلی) تشہد وتعوذ کے بعد حضور نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر فرمایا: کلمہ شہادت جو اسلام کا اصل الاصول اور تعلیم اسلام کا خلاصہ ہے اور جس کا اقرار کئے بغیر کوئی انسان کسی صورت میں مسلمان ہی نہیں ہو سکتا اپنے اندر ایسے وسیع مطالب اور معانی رکھتا ہے کہ جنگی حد بندی کرنا کسی انسان کا کام نہیں ہے۔اور اس کے مطالب کو ایک یا دو یا اس سے زیادہ تقریروں یا کتابوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔اس کلمہ کے جو اسلام کی تمام تعلیم کا قائم مقام رکھا گیا ہے صرف دو فقرے ہیں۔ایک لا إلهَ إِلَّا الله اور دوسرا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله ان دونوں فقروں کے اقرار کرنے کا جو یہ مطلب رکھا گیا ہے کہ انسان مسلمان ہو جاتا ہے تو معلوم ہوا کہ ان میں اسلام کی ساری تعلیم آجاتی ہے۔کیونکہ اگر یہ نہیں تو پھر انکے کہنے سے کوئی مسلمان کیونکر ہو سکتا ہے۔کسی کام کے کرنے والا اس کو کہا جاتا ہے جو اس تمام کام کو کرے۔ورنہ وہ کام کرنے والا نہیں کہلا سکتا۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی مکان میں اپنی ایک انگلی داخل کر دے تو اس کے متعلق یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ مکان میں داخل ہو گیا ہے۔ہاں جب وہ اپنا سارا جسم مکان میں داخل کر دیگا تب کہا جائے گا کہ مکان میں داخل ہو گیا ہے۔تو ان دو فقروں کے کہنے والے کے متعلق جو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام کے اندر داخل ہو گیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ فقرے اسلام کی ساری تعلیم کا خلاصہ ہیں۔پس اسلام کے وہ تمام احکام جو بڑے سے