خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 579

خطبات محمود جلد (5) ۵۷۸ کی وہ بے نظیر تھی ۔ مگر کامیابی اس کوشش کا لازمی نتیجہ نہیں تھی ۔ کیونکہ اگر لازمی نتیجہ ہوتی تو ہر ایک وہ قوم جو ان جتنی تعداد رکھتی ۔ اسے ایسی ہی کامیابی ہوا کرتی لیکن کیا کوئی ایسی نظیر دنیا میں پیش کی جاسکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ تو مسلمانوں کا مقابلہ بڑی تعداد کے ساتھ ہوا۔ افراد کے لحاظ سے گو انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔ اور ان سے بڑھ کر کوئی کیا کرے گا۔ اور جب صحابہ کرام کی قربانیوں کا ذکر ہوگا تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ ان کے اتنے آدمی مارے گئے کہ جتنے کسی کے نہیں مارے گئے ۔ یا یہ نہیں کہا جائے گا کہ ان کا اتنا مال خرچ ہوا کہ کسی اور نے نہیں کیا۔ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ ان کے ایک آدمی نے جتنا کام کیا اتنا کسی اور نے بھی کیا ہے۔ یا نہیں۔ اس کے مقابلہ میں ان سے بڑھ کر کوئی اور نظر نہیں آئے گا۔ لیکن انکی مجموعی قربانی اور کوشش کو دیکھو۔ اور پھر انکی کامیابی کی طرف نظر کرو کہ کیا نسبت رکھتی ہے۔ انہوں نے عرب کو فتح کیا۔ اور خدا کے فضل سے ہی کیا۔ نہ کہ انکی کوشش اور قربانی کی وجہ ہے۔ اگر خدا کی قدرت کے ماتحت نہ ہوتا تو انہیں کبھی کامیابی نہ ہوسکتی ۔ اس وقت ہی عراق عرب۔ جو عرب کا ایک حصہ ہے ۔ اس کے فتح کرنے کیلئے گورنمنٹ برطانیہ کے قریبا بیس ہزار آدمی کام آچکے ہیں ۔ مگر سارا علاقہ صاف نہیں ہوا۔حالانکہ ساز و سامان کے لحاظ سے۔ طاقت کے لحاظ سے خرچ کے لحاظ سے قربانی تو زیادہ ہوئی ہے۔ اس لئے چاہیے تھا کہ کامیابی بھی زیادہ ہوتی ۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ پس صحابہ کرام کو جو کامیابی ہوئی اور انکی قربانیوں کا جو نتیجہ نکلا۔ وہ خدا کے فضل سے اور اسی کی تائید سے نکلا۔ اس کو انکی کوشش کا لازمی نتیجہ نہیں کہہ سکتے ۔ لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بھی ایسا کرے اسکو ضرور وہ نتیجہ حاصل ہو جائے مگر ہر ایک کو ایسا کرنے کے باوجود۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ کرنے پر وہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا نے اپنی قدرت سے ہی یہ نتائج مسلمانوں کیلئے مہیا کئے تو کیا ضرورت تھی کہ تین سو آدمی انکے مرتے ۔ اسکے بغیر ہی فتح دے دیتا انکے سب مخالفوں کو ہلاک کر دیتا۔ اور یہ قلیل التعداد لوگ بغیر کسی قسم کی تکلیف