خطبات محمود (جلد 5) — Page 578
خطبات محمود جلد (5) ۵۷۷ لحاظ سے۔غرض ہر حیثیت سے زیادہ تھی۔مگر کامیابی رسول کریم کو ہی ہوئی۔اور اس کو انسانی کوشش کا نتیجہ نہیں کہا جاسکتا۔اگر انسانی کوششوں سے ہی ایسی عظیم الشان کامیابی ہوا کرتی ہے تو آج بھی ایک قوم سے جنگ شروع ہے۔ادھر طاقت۔مال۔رسوخ۔غرض کہ تمام سامان اُس کی نسبت زیادہ ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ اسکی پہلے سے تیاری تھی لیکن باوجود اس کے آج تک ایک کروڑ آدمی مرا۔اور زخمی ہو چکا ہے۔تاہم مقصد حاصل نہیں ہوا۔اسلام کے مقابلہ میں جو حملہ آور تھے وہ تعداد میں اور ہر حیثیت میں زیادہ تھے۔انکوایسی شکست ہوئی کہ ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔مگر اس لڑائی میں دیکھو اگر چہ دشمن کی تعداد تھوڑی ہے۔مگر پھر بھی وہ مغلوب نہیں ہوا۔افغانستان کی ساری آبادی یا آجکل کے عرب کی جس قدر بھی آبادی ہے اس ساری کو دگنا کر دیا جائے تو انکی تعداد اتنی ہوگی جتنے اس جنگ میں اس وقت تک مر چکے ہیں۔مگر فیصلہ ابھی تک ہونے میں نہیں آتا۔ادھر دیکھو۔مسلمانوں کی جماعت۔ایک محدود جماعت تھی۔اور مال و دولت ساز و سامان بھی محدود ہی تھا۔مگر انکی قربانیاں ایسے پھل لائیں کہ دشمن بالکل مٹ گئے۔مسلمان جس قدر مارے گئے۔اور جتنا مال انہیں خرچ کرنا پڑا۔وہ بہت کم تھا۔اس کامیابی کے مقابلہ میں جو ان کو حاصل ہوئی۔رسول کریم کے وقت کی جنگوں میں جو مسلمان شہید ہوئے انکی تعداد دو تین سو سے زیادہ نہیں۔اور دشمن کے ہلاک ہو نیوالوں کی تعداد ہزار ڈیڑھ ہزار سے زیادہ نہیں۔لیکن ان جنگوں کا نتیجہ دیکھو کیسا فیصلہ کن۔اور عظیم الشان نکلا کہ دشمن بالکل کچلا گیا۔اسے مسلمانوں کی قربانیوں اور کوششوں کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا۔تو یہ قربانی کچھ بھی نہیں۔افراد کے لحاظ سے اگر چہ انہوں نے بڑی بڑی قربانی کی۔مگر مجموعی لحاظ سے جو قربانی ہوئی وہ کامیابی کے مقابلہ میں بڑی نہ تھی۔اور جب قوموں سے مقابلہ ہوتا ہے تو جماعتوں کی قربانی دیکھی جایا کرتی ہے۔اور اس بات کا لحاظ ہوتا ہے کہ جماعت کی طرف سے کتنی قربانی ہوئی۔مسلمانوں نے فرداً فرداً جو قربانی اور اخلاص دکھایا اور دین کی راہ میں جو کوشش