خطبات محمود (جلد 5) — Page 550
خطبات محمود جلد (5) ۵۴۹ بچہ سے کھیلے۔وہ جانتا ہے کہ سانپ ڈنک مارے گا جس سے جان جائے گی کوئی انسان نہیں دیکھا ہوگا جو جنگلی شیر کے منہ میں دیدہ و دانستہ اپنا ہاتھ ڈال دے کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شیر چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔مگرفتنہ کی راہ اس سے بھی زیادہ تجربہ شدہ ہے۔سانپوں کے ڈسے ہوئے بچ جاتے ہیں۔شیر کے پھاڑے ہوؤں کا علاج ہو جاتا ہے۔آگ سے سلامتی ہو جاتی ہے لیکن اگر نہیں سلامتی تو فتنہ کے بعد نہیں۔کوئی نظیر نہیں بتلائی جاسکتی کہ فتنہ کے بعد کوئی قوم سلامت رہی ہو۔پھر حیرت ہے باوجود یہ جانتے ہوئے کیسے لوگ فتنہ اندازی سے نہیں ڈرتے مگر حقیقت یہی ہے کہ لوگ نہیں جانت کہ فتنہ کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔پس خوب یادرکھو کہ فتنہ نے کسی قوم کو سلامت نہیں رکھا۔حتی کہ اسلام کی جو کہ آخری جماعت ہے اور جو اپنے سے پہلی تمام جماعتوں سے برگزیدہ ہے۔وہ بھی اس کے بدنتائج سے نہ بیچ سکی تو پھر ہماری جماعت جو اسلام سے باہر نہیں بلکہ جس کا دعویٰ یہ ہے کہ اگر حقیقی اسلام اس وقت کسی جماعت کے پاس ہے تو وہ خدا کے فضل سے ہماری ہی جماعت ہے۔پس کیسے فتنہ کے بدنتائج سے محفوظ رہ سکتی ہے۔پس میں ہوشیار کرتا ہوں کہ ان تمام بلاؤں اور ہلاکتوں سے بچنے کا صرف ایک ہی گر ہے وہ ہے اتفاق و اتحاد۔جب تک اتفاق و اتحاد سے رہو گے اور جب تک اسی کوشش میں رہو گے کہ کسی طرح اس راہ کو نہ چھوڑیں کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی فتح نہیں پاسکے گا۔لیکن اگر یہ باتیں چلی گئیں۔اختلاف رونما ہو گیا تو چھوٹے چھوٹے آدمی بھی تم پر غالب آجائیں گے۔ایک وقت تھا کہ جب مسلمان اتفاق و اتحاد رکھتے تھے۔ان کے سینکڑوں غیروں کے لاکھوں پر بھاری ہوتے تھے لیکن جب یہ اتفاق و اتحاد مفقود ہو گیا پھر یہی مسلمان تھے کہ ان کو چھوٹی حکومتوں نے پسپا کر دیا اور تباہ کر ڈالا۔میری حالت رنج سے غیر ہو جاتی ہے جب میں تواریخ میں ہسپانیہ کا حال پڑھتا ہوں۔وہاں پر کتب کا وہ ذخیرہ تھا اگر وہ آج ہوتا تو ہمیں اسلام کی تائید میں نقلی طور پر بہت مدد ملتی۔لیکن تفرقہ نے جب اس اسلامی حکومت کو کمزور کر دیا تو وہ سلطنت