خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 46

خطبات محمود جلد (5) ۴۶ تفسیر قرآن کریم کے الفاظ سے سمجھ میں آتی ہے۔اور یہ تفسیر وہی سب سے زیادہ سمجھ سکتا ہے جس کو خدا تعالیٰ خود سمجھائے اور پھر اس سے بڑھ کر اور کون سمجھ سکتا ہے جس پر قرآن کریم نازل ہوا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل آپ کی سنت و عمل قرآن کریم کی تفسیر ہے۔لیکن آپ کے بعد جب زمانہ گذرتا گیا تو لوگوں نے اپنے اپنے عقل اور فہم کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنی شروع کر دی اس لئے اختلاف پڑنے شروع ہو گئے اور ہزار ہا اختلاف پڑ گئے۔اب ہر ایک مؤمن کے لئے مشکل ہو گیا کہ وہ کس بات کو غلط قرار دے اور کس کو مانے۔اکثر لوگ چونکہ خیالات کے پابند ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہوا کہ انہیں غلط خیالات سے ہٹا کر حقیقت اور اصلیت کی طرف لانے والا کوئی پیدا ہو۔وہ حضرت مسیح موعود پیدا ہوئے۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔يُحكِّمُوكَ۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسیح موعود حکم ہوگا یعنی اس لئے مبعوث کیا جائے گا کہ جو اختلاف پڑ گئے ہوں گے اس کے ذریعہ دور ہو کر سب لوگ ایک دین پر جمع ہو سکیں گے اور قرآن کی اپنی عقل کے مطابق جو لوگوں نے تفسیریں کر کے اختلاف ڈال دیئے ہیں وہ صحیح اور درست تفسیر کر کے ان کو دور کر دے گا۔پس ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے نہیں مانتے اور دوسروں کو منواتے کہ آپ قرآن کو منسوخ کر کے کوئی اور شریعت لائے تھے بلکہ اس لئے کہ آپ قرآن کریم کی سچی اور درست تفسیر کرنے والے تھے۔اسی طرح قرآن شریف کو ہم اس لئے نہیں مانتے اور دوسروں سے منواتے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔پس ہر ایک بات اور اختلاف کا فیصلہ خدا تعالیٰ کا کلام ہی کر سکتا ہے۔اور وہی کرتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کا کلام اس سے بڑھ کر اور کون سمجھ سکتا ہے جس پر کہ وہ نازل ہوا۔اور پھر اس سے بڑھ کر زیادہ اور کون سمجھ سکتا ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے باپ کا نام اس کے باپ کا نام اور میری ماں کا نام اس کی ماں کا نام ہوگا اور میری ہی قبر میں دفن کیا جائے گا۔اس سے زیادہ اور کسی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا قرب ہو سکتا ہے۔اور اس سے زیادہ کسی کا کیا حق ہے کہ قرآن کو سمجھ سکے۔پس حضرت مسیح موعود سب سے بڑھ کر قرآن کو سمجھنے والے تھے اور خدا نے انہیں سمجھایا تھا اس لئے جو فیصلہ انہوں نے کر دیا وہی فیصلہ درست اور صحیح ہے۔