خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 45

خطبات محمود جلد (5) ۴۵ افعال سے خواہ انتظامی امور سے تعلق رکھتی ہو خواہ جسمانی سے خواہ ایمان سے تعلق رکھتی ہو خواہ اعتقاد سے وہ رسول کر دیتا ہے۔اب اسے کسی اور کے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی لیکن بہت لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس بات کو سمجھا نہیں ہوتا اس لئے ٹھو کر کھاتے ہیں۔بہت لوگ ہیں جو لکھتے ہیں کہ ہمیں سمجھ آگئی ہے کہ حضرت مرزا صاحب بچے تھے لیکن لاہوری ان کے متعلق کچھ اور کہتے ہیں اور تم کچھ اور۔ہم کس کی بات کو مانیں اور کس کی بات کو نہ مانیں۔میں ایسے لوگوں کو کہتا ہوں کہ تم قرآن شریف کو قبول کرو۔سلسلہ احمدیہ کے انتظام کے لئے پہلے حضرت مولوی صاحب تھے اور اب میں ہوں۔نہ کبھی مولوی صاحب نے کہا ہے اور نہ میں کہتا ہوں۔کہ عقائد احمدیت اس لئے قبول کرو کہ میں کہتا ہوں عقائد تو وہی ہیں جو حضرت مرزا صاحب مقرر فرما گئے ہیں اس لئے میں کہتا ہوں کہ اگر ہماری کوئی بات سچی ہے تو اسے قبول کر لو۔ورنہ غلط قرار دے کر چھوڑ دو۔پس تمام باتوں کے فیصلہ کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ جو بات حضرت مسیح موعود نے فرمائی ہے اسے قبول کرو۔اور جو اس کے خلاف ہے اسے چھوڑ دو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اتنی مدت حضرت صاحب کی صحبت میں رہا ہے اس نے فلاں بات کہی ہے۔اکمل نے یہ لکھا ہے’ قاسم نے یہ کہا ہے۔فلاں ایڈیٹر نے یہ کہا ہے فلاں ایم اے یہ کہتا ہے ہم کس کی مانیں میں کہتا ہوں کہ ہر ایک اختلاف کی بنا ہمیشہ سے اسی بات پر رکھی گئی ہے۔کہ ان لوگوں کی باتوں اور راؤں کو سامنے رکھا جاتا ہے جو کسی بات کے متعلق فیصلہ دینے کا اختیار نہیں رکھتے اور ان کی بات کے پیچھے چلا جاتا ہے جو ٹھو کر کا باعث ہوتے ہیں۔اس ٹھوکر سے بچنے کا طریق یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مامور کیا گیا ہے۔اس کی بات کو قبول کیا جائے۔اور اس کے علاوہ خواہ کوئی بڑا ہو یا چھوٹا اس کی بات اگر اس مامور من اللہ کی بات کے مطابق ہے تو اسے قبول کر لو۔اور اگر اس کے خلاف ہے تو پھینک دو۔حضرت مسیح موعود کے فیصلہ کو ماننے سے اصل میں قرآن اور حدیث کے فیصلہ کو مانا جاتا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود قرآن اور حدیث کو رڈ کرنے کے لئے نہیں آئے تھے۔بلکہ ان کے اصل اور درست معنی بیان کرنے کے لئے آئے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن کی تفسیر کی ہے وہ حدیث ہے اور ایک