خطبات محمود (جلد 5) — Page 528
خطبات محمود جلد (5) ۵۲۷ سننے کیلئے کہ انہوں نے بڑا کام کیا ہے۔ ایسا کیا جائے۔ پس مومن کو ریا سے بچنا چاہئیے ۔ خدا کا قرب ایسا نہیں کہ ریا کاری سے میسر آ جائے ۔ خدا کے فضل محدود نہیں ۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے۔ انسان ہی اسکی صفات کا منکر ہے۔ اس کے فضل اور اسکے انعام اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر کوئی انسان اس قدر بھی لے لے کہ اس سے پہلے کسی نے اس کے برابر نہ لیا ہو تو بھی وہ اس سے کم ہے۔ جتنا ایک چیونٹی سمندر سے پانی بھر کر لے جائے ۔ اللہ کے دروازے ہر ایک کیلئے کھلے ہیں۔ اس کے انعام اور فضل ہر ایک کیلئے ہیں۔ دوسری بات یہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ من اور احسان جتلانے سے بہت نقصان ہوتا ہے۔خدمت کر کے جتانا اپنے کام کو کھونا ہے۔ جب انسان احسان جتاتا ہے تو آئندہ اس سے توفیق چھین لی جاتی ہے۔ لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ کیا وہ انسان دانا ہے جو بڑی لاگت سے ایک مکان بنائے اور پھر خود ہی اسے دیا سلائی لگا کر جلا دے۔ مگر بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان سے کوئی غلطی یا قصور ہو جائے ۔ اور اس پر انہیں سزادی جائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے دین کی فلاں فلاں خدمت کی ہے مگر ہماری قدر نہیں کی گئی ۔ انہیں یاد رکھنا چاہئیے کہ کوئی کام کرنا الگ بات ہے اور کسی نقص پر سزا دینا یا محاسبہ کرنا یہ بالکل علیحدہ بات ہے۔ کعب بن مالک کا واقعہ کیسا سبق آموز ہے۔ وہ تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ مکہ کی فتح میں بھی ساتھ تھے۔ مگر غزوہ تبوک میں سستی سے پیچھے رہ گئے ۔ نبی کریم نے انہیں ایسی سخت سزا دی کہ انکے سلام کا جواب تک نہ دیتے تھے۔ تمام مسلمانوں کو کلام کرنے سے روک دیا۔ حتی کہ بیوی کو بھی الگ کر دیا۔ اسی حالت میں غسان کے بادشاہ کا ایلچی ان کے پاس خط لا یا جس میں لکھا تھا کہ تیرے صاحب تیری نے تیری قدر قدر نہیں کی۔ تو میرے پاس پاس آجا۔انہوں آجا۔ انہوں نے نے کہا یہ کہہ کہ کر کہ یہ شیطان کا کا آخری حملہ ہے خط کو تنور میں ڈال دیا اور ایچی کو کہا کہ اپنے بادشاہ کو یہ پیغام پہنچادینا ۔ مگر آجکل کے لوگ ہیں کہ ان سے اگر کچھ باز پرس کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری خدمات کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ ہماری قدر نہیں کی گئی۔ یاد رکھنا چاہئیے کہ انتظام الگ چیز ہے اور کام کرنا الگ چیز اور انتظام قائم رکھنے کیلئے جو غلطی کرتا ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے خواہ وہ کوئی ہو ۔ : بخاری کتاب المغازی باب غزوہ تبوک حدیث کعب بن مالک۔