خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 521

خطبات محمود جلد (5) ۵۲۰ پہلا فرق اسلام اور دیگر مذاہب میں یہ ہے کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب صرف لفظ نیکی کی طرف بلاتے ہیں۔اور اسلام اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے جو اصل مقصود ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص بیمار ہو تو یہ اکثر لوگ کہیں گے اس مرض کا علاج کرنا چاہئیے۔اور کچھ ان میں سے کوئی نہ کوئی دوا بھی بتائیں گے۔جن میں بہت اختلاف ہوگا۔اور جو بجائے مرض کو دور کرنے کے اکثر نقصان کا موجب ہوں گی۔مگر جو دانا انسان ہوگا۔اور جو مرض کو سمجھتا ہو گا وہ اس مرض کا مناسب علاج بتائے گا۔پس اسلام اور دیگر مذاہب میں نیکی کے بارہ میں ایک فرق ہے۔اور وہ یہ کہ اسلام حقیقی تعریف نیکی کی بتاتا ہے۔اور حقیقت کی طرف لاتا ہے۔مگر دیگر مذاہب حقیقت سے بہت دور کر دیتے ہیں۔اسلام اور دوسرے مذاہب میں دوسرا فرق یہ ہے کہ دوسرے مذاہب صرف نیکی کی طرف بلاتے ہیں۔مگر اسلام استباق کی طرف بلاتا ہے۔کہ نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔سبقت کے معنی ہیں آگے بڑھنا۔اور استباق کے معنے ہیں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ولکل وجهة هو موليها فاستبقوا الخيرات - گولفظاً سب مذاہب نیکی کی طرف لے جاتے ہیں۔مگر اصل یہ ہے کہ وہ نیکی سے دور لے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہر ایک نے ایک ایک طرف اختیار کر لی ہے اور نیکی کی طرف سے منہ پھیر لیا ہے۔اگر چہ کہتے یہی ہیں کہ ہم نیکی کی طرف لئے جاتے ہیں لیکن واقعہ میں ایسا نہیں کرتے۔پس ان کے اور طرفوں کو اختیار کر لینے سے نیکی کی طرف خالی رہ گئی ہے۔تم اس کو لے لو۔مدعی دوسرے بھی ہیں کہ وہ نیکی کی طرف لئے جاتے ہیں۔مگر وہ نیکی سے دُور لئے جاتے۔مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ جب تمام مذاہب نے اپنے لئے اور طرفیں اختیار کر لی ہیں تو تم کو کیا کرنا اہیئے۔یہ کہ اول تو نیکی کی طرف کو اختیار کرو۔دوسرے استباق کرو۔کیا لطیف قرآن کریم کا طریق کلام ہے۔یہاں استباق کا لفظ رکھا ہے جس میں بظاہر سرعت اور تیزی نہیں پائی جاتی۔کیوں؟ اسلئے کہ اگر دو آدمی شست روی سے جار ہے ہوں اور ایک ان میں سے کسی قدر آگے بڑھ جائے تو اس نے استباق کر لیا۔اور اس طرح ہر کام میں تھوڑے سے بڑھنے کا نام استباق رکھ لیا۔اور سمجھ لیا کہ میں نے خدا کے حکم کو پورا کر دیا ہے۔لیکن دراصل اس لفظ میں انتہاء درجہ کی سرعت اور تیزی سے آگے بڑھنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔کیونکہ ہر ایک کیلئے یہ حکم ہے کہ استباق کرے۔اب اگر ایک