خطبات محمود (جلد 5) — Page 512
خطبات محمود جلد (5) دیتے ہیں جہاں نام و نمود ہو ۔ ہیں و ہو۔ ۵۱۱ لیکن ابرار میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ایسے لوگوں کو کھانا کھلا یا جائے کیونکہ انکی صفات میں ایک صفت کھانا کھلانا بھی ہے جو کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی بدلہ کے لئے تمہیں کھانا نہیں کھلاتے بلکہ محض اللہ کیلئے کھانا کھلاتے ہیں۔ کیونکہ ایک دن آنے والا ہے انا نخاف من ربنا يوما عبوسا قمطریرا کہ جب ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ پس ہم جو تمہیں دیتے ہیں تم سے کچھ لینے کیلئے نہیں دیتے ۔ بلکہ اس لئے دیتے ہیں کہ وہ دن جس دن ہمارے پاس کچھ نہیں ہو گا ہم اللہ تعالیٰ سے لیں گے۔ ایسے پس یہ دن مبارک ہیں۔ میں جماعت کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب بھوک کے سبق کو ہر ایک شخص جانتا ہے۔ قادیان میں بہت سے سے لوگ لو ہیں اور میں ان کو جانتا ہوں کئی کئی فاقے ان پر پرگزر گزر جاتے جاتے ہیں۔ اورا۔ لوگ ہر جگہ موجود ہیں انکے پاس کچھ نہیں ان کے بچے فاقہ کر کے راتیں گزارتے ہیں۔ اب یہ اچھا موقعہ ہے کہ پھر بھول نہ جاؤ اللہ تعالیٰ نے بھی ہر سال رمضان لگا دیا ہے۔ دیکھا جاتا ہے جب بیماری ختم ہو جائے تو انسان کو پرواہ نہیں رہتی ۔ مثلاً کسی کے پیٹ میں درد ہو اس وقت وہ عہد کرے گا کہ آئندہ کبھی ایسی چیز نہیں کھاؤں گا جس سے پیٹ میں درد ہو لیکن جونہی کہ افاقہ شروع ہوا وہ عہد بھولنا شروع ہو گیا اور مزیدار شور بے کا خیال آنے لگا۔ پس جہاں تک ہو سکے رمضان سے عملی سبق لینا چاہئیے ۔ یہاں کے لوگ یہاں صدقہ کر سکتے ہیں۔ اور ر کوبھی باہر کے باہر ۔ یہ شرط نہیں ہے کہ اپنے ہی ہاں دیا جائے۔ غیروں کو بھی دینا چاہئیے ۔ غیروں کو بلکہ ضرور ہی دینا چاہیے تا خدا کی مخلوق سے ہمدردی عام ہو۔ میرے نزدیک تو کتے بلیاں اور چوہے بھی مستحق ہیں کہ ان کو بھی کھلانا پلانا چاہئیے ۔ یہ تو صدقہ کے متعلق تھا۔ مگر ایک بات اور بھی یادرکھو ایک جماعت ہے جو صدقہ نہیں کھا سکتی۔ غریب ہے نادار ہے۔ اس کی بھی مدد کی صورت نکالنی چاہئیے وہ سیدوں کی جماعت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسل کو صدقہ سے منع فرمایا ہے اے۔ بعض نے کہا ہے کہ اب سیدوں کیلئے صدقہ لینے میں کوئی حرج نہیں ل :- بخاری کتاب الزکوۃ باب اخذ صدقة التمر عند صرام النخل وهل يترك الصبي ليمس تمر الصدقة -