خطبات محمود (جلد 5) — Page 499
۴۹۸ 64 خطبات محمود جلد (5) خلفاء کی سچے دل سے اطاعت کرو ( فرموده ۲۹ جون ۱۹۱۷ء) حضور نے تشہد و تعوذ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی :- يا ايها الذين آمنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللكفرين عذاب اليم ما يود الذين كفروا من اهل الكتب ولا المشركين ان ينزل عليكم من خير من ربـ من ربكم والله يختص برحمته من يشاء والله ذو الفضل العظيم ۔ (البقره: ۱۰۵) اور فرمایا :۔ بہت سے لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کلام اور اپنی تحریر پر قابو نہیں رکھتے ۔ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ صوفیاء کا قول ہے۔ الطريقة كلها ادب“ تو جب تک انسان اپنے قول اور تحریر پر قابو نہیں رکھتا اور نہیں جانتا کہ اسکی زبان اور قلم سے کیا نکل رہا ہے وہ انسان کہلانے کا مستحق نہیں وہ تو حیوان سے بھی بدتر ہے کیونکہ جانور بھی خطرہ کی جگہوں سے بچتا ہے بھی لیکن انسان مال اندیشی سے ہرگز کام نہیں لیتا۔ جانور کو کسی خطرہ کی جگہ مثلاً غار کی طرف کھینچیں تو وہ ہر گز ادھر نہیں جائے گا ۔ مولوی رومی صاحب نے اپنی مثنوی میں ایک مثال لکھی ہے کہ ایک چوہا ایک مولوی رومی صاحب نے اونٹ کو جس طرف وہ اونٹ جا رہا تھا ادھر ہی اسکی نکیل پکڑ کر لے چلا لیکن جب راستہ میں ندی آئی تو اونٹ نے اپنا رخ پھیر لیا اور چوہا ادھر گھسٹتا ہوا چلنے لگا جدھر اونٹ جا رہا تھا تو ایک چوہا بھی ایک اونٹ کو جہاں خطرہ نہ ہولے جا سکتا ہے مگر جہاں خطرہ ہو وہاں چوہا تو کیا ایک طاقتور آدمی بھی اونٹ کو نہیں لے جا سکتا۔