خطبات محمود (جلد 5) — Page 472
خطبات محمود جلد (5) ۴۷۱ چنانچہ مسلمان حکومتیں اکثر سود لے کر یا دے کر ہی تباہ ہوئی ہیں۔دوسری حکومتیں بھی سود لیتی اور دیتی ہیں مگر ان کو اس سے نقصان نہ پہنچنے اور مسلمانوں کے تباہ ہو جانے کی وجہ یہ ہے۔جو شخص کسی مذہب کی صداقت کا ہی قائل نہیں اس پر اس مذہب کے کسی حکم کی خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں ہوتی۔مگر جو لوگ قائل ہوں ان کوضرور سزا دی جاتی ہے۔عیسائی سود لیتے ہیں ان پر اس کی بناء پر عذاب نہیں آسکتا۔کیونکہ وہ اسلام کو مانتے ہی نہیں۔اور یہ اسلام کا ایک حکم ہے کہ سود نہیں لینا چاہیئے۔مگر مسلمان کہلانے والے تو اس کے خلاف کرنے سے سزا سے نہیں بچ سکتے۔کیونکہ وہ اسلام کے سچا ہونے کا اقرار کرتے ہوئے پھر اس کے خلاف کرتے ہیں۔دیکھو خُدا تعالیٰ نے کفر کا عذاب اس جہان میں نہیں بلکہ اگلے جہان میں رکھا ہے۔اور یہاں ایسے ہی لوگوں کو عذاب دیا جاتا ہے جو شرارت اور فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے یا دوسروں کو بھی کفر پر مجبور کرتے ہوں یا فساد پھیلاتے ہوں۔لیکن ایسا کافر جو کسی کو دکھ نہیں دیتا اور اپنے خیال کی بناء پر اپنے مذہب پر لگا ہوا ہے اس سے اس جگہ پرسش نہیں ہوگی۔بلکہ مرنے کے بعد ہوگی۔اور وہ بھی یہ کہ تم نے اسلام کیوں قبول نہیں کیا۔نہ یہ کہ تم نے اسلام کے فلاں حکم کے خلاف کیوں کیا۔مگر وہ لوگ جو اسلام کو قبول کرتے ہوئے پھر بھی اسلام کے احکام پر عمل نہیں کرتے ان کو یہاں بھی سزا دی جاتی ہے۔اور وہاں بھی دی جائے گی۔پس یہی وجہ ہے کہ وہ اسلامی سلطنتیں جنہوں نے سود لیا یاد یا سب کی سب مٹ گئیں۔دوسری قوموں کی سلطنتوں کو بھی زوال آئے۔مگر وہ سیاسی طور پر تھے اور ان کے وجوہات کچھ اور تھے۔لیکن اسلامی سلطنتیں اسی طرح فنا ہوئی ہیں کہ انہوں نے سُود پر قرض لیا یا دیا۔اگر لیا تو روپیہ دینے والی سلطنتوں نے ان کے ملک میں آہستہ آہستہ اپنا تسلط جمانا شروع کیا۔کبھی ریلوں کا ٹھیکہ لیا۔کبھی کانوں کو کفالت میں رکھا۔کبھی کسی اور صیغہ پر قبضہ کر لیا۔غرض آہستہ آہستہ تمام ملک پر چھا گئے۔آخر مسلمانوں کو سلطنت سے دست بردار ہونا پڑا اور اگر سود پر قرض دیا تو جب کبھی سلطنتوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تو وہ ارکان سلطنت جنہوں نے اپنا تمام سرمایہ غیروں کو شود پر دیا ہو ا تھا اپنے قرضداروں کے طرفدار ہو گئے تاکہ ان کا روپیہ نہ مارا جائے۔کیونکہ اگر سلطنت کا ساتھ دیتے تو روپیہ جاتا تھا۔پس سُود نے اس طرح مسلمانوں کی اکثر حکومتوں کو تباہ کر دیا۔اہل یورپ کے خیال میں سود کے بغیر کسی قوم کی زندگی نہیں۔مگر اسلام کہتا ہے کہ سود کے چھوڑے بغیر زندگی نہیں۔دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔باوجود اس فرق کے رکس