خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 459

خطبات محمود جلد (5) ۴۵۸ تکالیف سے جو انکی اصلاح کے لئے ہوتیں۔آپ نہ گھبراتے تھے۔عنت۔اس مصیبت کو کہتے ہیں جس سے انسان ہلاک ہو جائے۔تو آپ کو گھبراہٹ ایسی ہی بات پر ہوتی تھی جس سے وہ لوگ ہلاک ہوتے نظر آتے تھے۔ورنہ جہاد کی ترغیب تو آپ خود دلاتے تھے۔کیونکہ وہ ان لوگوں کی ترقیات کے لئے ضروری تھا۔لیکن اس میں کیا شک ہے کہ جہاد میں تکالیف ہوتی ہیں۔اگر آپ پر لوگوں کی ہر تکلیف شاق گزرتی تو گویا آپ مسلمانوں کو ترقیوں سے روکتے۔جیسا کہ ناجائز محبت کے مرتکب ماں باپ اپنی اولاد کو تھوڑی سی تکلیف میں بھی نہیں دیکھ سکتے۔اور اس طرح ان کی زندگی کو تباہ کر دیتے ہیں۔بلکہ ان مصائب کو دیکھ کر آپ کو شاق گذرتا تھا جو لوگوں کی بربادی اور ہلاکت کا موجب ہوتی تھی۔پس آپ ایسی تکالیف پر نہیں گھبراتے تھے جو قوم کی ترقی وفلاح کا موجب ہوں۔عنت۔لغت میں ایسی تکلیفوں اور مشقتوں کو کہتے ہیں جن کے نیچے دب کر انسان ہلاک ہو جائے۔کیا ہی بے نظیر آپ کے اخلاق تھے۔آپ کو تڑپ تھی۔اور آپ کو دکھ ہوتا تھا ان کے ایسے مصائب سے جن سے وہ ہلاک ہونے لگتے۔صحابہ میں بعض لوگوں نے دین کے لئے بڑی بڑی مشقتیں کرنی شروع کیں۔جن سے آپ نے ان کو روک دیا۔مگر یہ نہیں کہا کہ سردی کے موسم میں صبح کے وقت مسجد میں نہ آؤ کہ تمہیں تکلیف ہوگی۔اور گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کرو یا یہ کہ دشمنوں سے لڑنے کے لئے نہ جاؤ۔کہ تمہاری جانیں ضائع ہوں گی۔اور دشمن کے نیزے اور خنجر تمہیں زخمی کریں گے۔اس کے لئے تو آپ حرص دلاتے تھے۔ہاں جو باتیں ان کے لئے ہلاکت کا موجب ہو سکتی تھیں۔ان سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی۔اور ان سے منع بھی فرماتے تھے۔پھر فرما یا۔حریص علیکم۔ایک تو اس کی یہ حالت ہے کہ کسی کی ایسی مصیبت نہیں دیکھ سکتا جس میں وہ ہلاک ہوتا ہو۔دوسرے یہ کہ جب کسی کو مصیبت میں دیکھتا ہے تو اس کی نجات کے لئے دوڑتا ہے۔دوسرے معنے یہ کہ سب کو جمع کرنا چاہتا ہے۔اس کی خواہش ہے کہ سب دنیا اس کے پاس آجائے تاوہ دکھوں اور مصیبتوں سے نجات پا جائے۔جس طرح انسان مال کو اس لئے جمع کرتا ہے کہ محفوظ ہو جائے۔اسی طرح آپ یہی چاہتے کہ لوگ جن کے لئے الگ الگ رہنے میں ہلاکت ہے۔آپ کے پاس آجائیں تا ہلاکت سے بچ جائیں تو فرمایا کہ یہ مومنوں کو جمع کرتا اور خدا کی محبت پیدا کرنے کے طریقے سکھاتا ہے۔پھر فرمایا۔بالمؤمنین رؤف رحیم کہ جب یہ لوگوں کو جمع کر لیتا ہے تو ان سے رافت اور رحمت کا سلوک کرتا ہے۔حریص علیکم کا نتیجہ تو ہے۔حریص علیکم کا نتیجہ تو یہ ہے کہ مومن پیدا ہوں۔جب