خطبات محمود (جلد 5) — Page 445
خطبات محمود جلد (5) マママ ترقی کرے گی تو دوسری یقینا فنا ہو گی یہ ایک علمی مسئلہ ہے کہ کیوں دوسری مد مقابل چیز گھٹتی ہے۔ جس کی تفصیل کی ولا یہ ایک بھی مسئلہ ہے کہ کیوں دوسر یہاں ضرورت نہیں۔ ایک چیز کا گھٹنا دوسری کے بڑھنے اور دوسری کا بڑھنا پہلی کے گھٹنے کی علامت ہے۔ مثلاً جب نہیں۔ ایک چیز کا گھٹنا کےبڑھنے اور کا کے گھنے کی علامت ہے۔ مثلا مسلمان بڑھے تو دوسری قو میں جو ان کے مقابلہ میں تھیں کم ہونا شروع ہو گئیں ۔ اس وقت مسلمانوں کی نسلی ترقی کے ساتھ مذہبی ترقی بھی ہوتی تھی جب ایک قوم کی تجارت بڑھے گی تو دوسری کی تجارت پر ضرورز وال آئے گا۔ پس جو قوم یہ چاہتی ہو کہ وہ تمام دنیا پر حاوی ہو جائے اس کی تبلیغ تمام دنیا پر ہو۔ وہ گو یا تمام باقی مذاہب کو مٹانا چاہتی ہے ۔ لیکن کون ہے جو چاہتا ہے کہ میری ہستی فنا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ سچے مذہب کے مقابلہ کے لئے مل کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیا وجہ تھی کہ مکہ کے لوگوں نے آنحضرت اور صحابہ کو ہر قسم کی تکلیفیں دینا شروع کر دی تھیں اور نبی کریم پر حملے کرنے شروع کر دیئے تھے۔ یہی کہ وہ دیکھتے تھے۔ کہ اگر ان کا مقابلہ نہ کیا گیا تو تمام لوگوں پر ان کا اثر ہو جائے گا۔ اور جب سب لوگ اسلام کو قبول کر لیں گے تو پھر ہمارے ان بتوں کی عزت چھوڑ دی جائے گی اور ان کی ہتک کی جائے گی ۔ اب بھی یہی وجہ ہے کہ غیر احمدی ہر جگہ احمد یوں کو تکلیفیں مادے رہے ہیں ۔ وہ صداقت کا اسی طرح مقابلہ کرنا چاہتے ہیں وہ سب لوگ جو صداقت سے دور ہوتے ہیں۔ صداقت کا مقابلہ کرنے کے لئے جمع ہو جاتے ہیں۔ جس طرح بکریاں آپس میں لڑیں بھڑیں گی۔ مگر جب شیر آجائے تو وہ اپنی لڑائی چھوڑ دیں گی یا اور جانور ہوں ۔ وہ لڑائیاں چھوڑ کر شیر کا مقابلہ کریں گے۔ اگر مقابلہ نہیں کر سکیں گے تو اپنے بچاؤ کی فکر تو ضرور کریں گے۔ پس یہی صورت ہے۔ جھوٹے مذاہب کی کہ وہ سب مل کر سچے گرتے کے مقابلہ میں جمع ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ مذہب پھیلا تو ہماری خیر نہیں ۔ اس لئے وہ بہت سخت وہ مقابلہ کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ یا ایها الذین امنوا اصبروا کہ اے مومنو! چونکہ تم کو بڑھنا اور ترقی کرنا ہے۔ اس لئے تمہاری راہ میں ہر قسم کی تکالیف اور مصائب آئیں گی ۔ لیکن ان سے گھبرانا مت۔ بلکہ صبر سے کام لینا اور ان مصائب کو جو تم پر آئیں۔ بہادری سے برداشت کرنا۔ پس پہلا حکم یہ ہے کہ اپنے اندر صبر کا مادہ پیدا کرو۔ اپنی نا جائز اُمیدوں اور جوشوں کو دباؤ ۔ اور ان کو روکنے کی کوشش کرو۔ پہلا حکم تو تھا اصبروا ۔ دوسرا حکم ہے صابروا ۔ یعنے ایک دوسرے سے بڑھ کر کام کرو۔ اس کا نام مصاہرت ہے۔ یہ درجہ پہلے درجہ سے اعلیٰ بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے درجہ پر بھی ۔ صابر وا کے معنے ہیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں صبر کر کے دکھاؤ ۔ یعنی ہر ایک