خطبات محمود (جلد 5) — Page 443
خطبات محمود جلد (5) ۴۴۲ مشورہ کر لیا جاتا تھا۔اور جو خاص لوگ کہیں باہر ہوتے تھے۔ان سے بھی خطوط کے ذریعہ مشورہ کر لیا جاتا تھا۔حضرت علی اور حضرت معاویہ کے اختلاف اور حضرت معاویہؓ کے ابتلاء کی یہی وجہ ہوئی کہ انہوں نے کہا کہ جب وہ ایک صوبہ کے گورنر تھے تو کیا وجہ ہے کہ اُن سے مشورہ نہیں کیا گیا۔اور انہوں نے حضرت علی کے اس مشورہ نہ لینے کو عداوت پر محمول کیا۔پس خلفاء بھی حتی الامکان بیرونی لوگوں سے مشورہ لینے کی کوشش کرتے تھے۔لیکن چونکہ اس وقت سفر کے سامان نہ تھے۔اور نہ سفر میں ایسی آسانیاں تھیں۔نہ ریل تھی۔نہ ڈاک تھی نہ محکمہ تار تھا۔اس لئے اگر تمام قوم کو جو دنیا کے مختلف حصص میں پھیلی تھی۔اطلاع کی جاتی تو کوئی کام بآسانی نہ ہوسکتا۔اور ہر ایک بات کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے کم از کم پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا۔اس صورت میں وہ کام جن کا جلد ہونا ضروری ہوتا۔بہت دیر پر جا پڑتے۔اور بہت نقصان ہوتا۔اس لئے مقامی صحابہ سے ہی مشورہ کر لیا جاتا تھا۔ہاں حج کا ایک ایسا موقعہ ہوتا تھا کہ تمام دنیائے اسلام کے لوگ وہاں جمع ہوتے تھے۔اس لئے ان سے مشورتاً باتیں دریافت کر لی جاتی تھیں۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے خطبات حج میں ہم ان باتوں کو پاتے ہیں۔آج چونکہ سفر میں بہت سہولتیں ہیں اور ایک قلیل مدت میں دور دراز کے لوگ جمع ہو سکتے ہیں۔اس لئے ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ کانفرنس و ہی مجلس شوری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے وقت تھی۔لیکن چونکہ اب بیرونی احباب بھی آسانی سے شامل ہو سکتے ہیں۔اس لئے ہم ان آسانیوں سے فائدہ اٹھا کر ان کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔میرے نزدیک کانفرنس ایک اہم امر ہے۔اور وہ در حقیقت حضرت مسیح موعود کے اس حکم کو پورا کرنے کے لئے ہے جو آپ نے مالوں کی حفاظت اور مل کر کام کرنے کے متعلق دیا ہے۔اور اس کی بنیاد آنحضرت کے وقت سے قائم ہے۔دیکھو صدر انجمن کے سپرد صرف مدرسہ لنگر اور ایسے ہی دوسرے کام کئے گئے۔جن کا تعلق چندہ سے ہے۔مگر جماعت کا انتظام حضرت مسیح موعود نے انجمن کے سپرد نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ کے جو کام ہوتے ہیں وہ آہستہ آہستہ ہوتے ہیں۔اب کی دفعہ چونکہ احباب باہر سے آئے ہیں۔اور وہ ان امور پر غور کریں گے جو ان کے روبرو پیش کئے جائیں گے اور آپس میں مشورہ کر کے سوچیں گے کہ کس طرح کام کرنا چاہیئے۔اور ہماری جماعت کی سیاسی حالت آئندہ کیا ہوگی۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے۔اور اب بھی بتا تا ہوں کہ بہت سے لوگ سیاست کے معنوں سے واقف نہیں۔اس لئے وہ صرف سلطنت اور حکومت سے ہی اسکا تعلق سمجھتے تاریخ سعودی ( مروج الذہب ) الجزء الثانی ص ۳۰۷۔