خطبات محمود (جلد 5) — Page 442
خطبات محمود جلد (5) ۴۴۱ لیں۔چونکہ انسانوں کے دماغ مختلف ہوتے ہیں۔اس لئے کسی کام کے کرنے سے متعلق اگر زیادہ لوگ غور و خوض کریں تو ان کے ذہن میں مختلف طریق آتے ہیں۔اور جب مختلف خیالات معلوم ہو جا ئیں تو ان میں سے زیادہ عمدہ باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی طریق تھا کہ آپ کسی معاملہ کے متعلق صحابہ کو جمع کر کے ان سے مشورہ کر لیا کرتے تھے۔ہاں یہ ضروری نہیں تھا کہ آپ ہر ایک کے مشورہ پر عمل بھی کرتے۔آپ کو حکم تھا کہ وَشَاوِرُهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ لا جس کام میں ضرورت ہو مشورہ لو۔مگر جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کر چکو تو پھر اللہ پر توکل کر کے شروع کر لو۔دیکھو یہ جو اذان دی جاتی ہے یہ اس طرح تجویز ہوئی کہ مشورہ کیا گیا کہ لوگوں کو نماز کے وقت کس طرح جمع کیا جایا کرے۔کسی نے کوئی طریق بتایا۔کسی نے کوئی ایک صحابی نے عرض کیا کہ میرے خیال میں ہر نماز کے وقت بلند آواز سے اللہ اکبر اللہ اکبر (ساری اذان ) کہا جایا کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو پسند فرمایا۔دوسرے دن ایک اور صحابی آئے اور انہوں نے کہا کہ مجھ کو رویاء میں یہ اذان بتائی گئی ہے۔۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے بھی رویا میں یہی بتایا گیا ہے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اس صحابی کی یہ بات خدا تعالیٰ کو بھی پسند آئی۔اور اس نے رویاء کے ذریعہ بعض لوگوں پر ظاہر کر دی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اس کی پسندیدگی کا خیال بھی پیدا کر دیا۔بظاہر تو یہ ایک شخص کا مشورہ تھا۔مگر خدا تعالیٰ کو اور رسول کریم کو بھی پسند آ گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب تمام دنیائے اسلام میں یہی طریق رائج ہے۔اور صفحہ عالم پر پانچ وقت روزانہ بلند آواز سے اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔تو مشورہ ایک عمدہ بات ہے۔لوگوں کو اگر کوئی حکم دیا جائے کہ فلاں کام اس طرح کرو تو وہ اسے مان تو جاتے ہیں مگر دل میں اس کے کرنے کا خاص جوش پیدا نہیں ہوتا۔مگر مشورہ کے ذریعہ سب کو ایک بات کی ضرورت معلوم ہو جاتی ہے۔اور جب ضرورت معلوم ہو جائے تو لوگ جوش اور رغبت سے کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔پس مشورہ ایک مفید چیز ہے۔مگر یہ نادانی ہے کہ کوئی کہے کہ ہمارے مشورہ پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔مشورہ اور چیز ہے اور اس پر عمل کرنا ایک الگ چیز۔کا نفرنس حضرت مسیح موعود کے اس حکم کو پورا کرنے والی ہے کہ میرے بعد مل کر کام کرو۔صحابہؓ کے وقت بھی جب ایسی ضروریات پیش آتی تھیں تو بڑے بڑے بزرگ صحابہ کو بلا کر ان سے - بخاری کتاب الاذان باب بدء الاذان ا آل عمران : ۱۶ - ترمزی کتاب الاذان باب ماجاء في بدء الآذان۔