خطبات محمود (جلد 5) — Page 35
خطبات محمود جلد (5) ۳۵ جنگ میں جاتے ہیں وہ سارے کے سارے مارے نہیں جاتے۔مگر پھر بھی کوئی سپاہی ایسا نہیں ہوتا جو یہ نہ سمجھے کہ جنگ پر میرے لئے موت ضروری ہے اور میں مرنے کے لئے جارہا ہوں نہ کہ زندہ واپس آنے کے لئے۔اور جب تک ہر ایک سپاہی کو یہ خیال نہ ہو اس وقت تک وہ کوئی عزت کوئی انعام اور کوئی رتبہ حاصل نہیں کر سکتا لڑائی پر وہی لوگ جاتے ہیں جو موت کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم سر پر کفن باندھ کر جا رہے ہیں۔پھر بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو لڑائی پر جاتے ہیں۔مگر زندہ واپس آ جاتے ہیں۔لکھا ہے کہ خالد بن ولید جب فوت ہونے لگے تو آپ کے ایک دوست آپ کو دیکھنے کے لئے آئے اس نے دیکھا کہ آپ رور ہے ہیں پوچھا کیوں روتے ہیں کہا مجھے شہادت کی بڑی خواہش تھی لیکن افسوس کہ حاصل نہ ہوئی اور بہت سے لوگوں میں کوئی ایک لڑائی میں شریک ہوا تو شہید ہو گیا۔کوئی دوسری میں شریک ہوا تو شہید ہو گیا۔اور کوئی تیسری میں شہید ہو گیا۔مگر میں اس قدرلڑائیوں میں شریک ہوا کہ میرے سر سے لے کر پاؤں تک زخم لگے مگر آج میں بستر پر پڑا جان دے رہا ہوں۔مجھے میدانِ جنگ میں موت نصیب نہ ہوئی۔یہ ان کا اخلاص تھا کہ اس طرح کی موت کو وہ پسند کرتے تھے ورنہ میرے نزدیک وہ کئی شہادتیں پاچکے تھے۔تولڑائی پر جانے والا بھی زندہ واپس آسکتا ہے۔مگر جانتے ہو خالد۔خالد کیوں بنا۔اس کی شہادت ان کی وفات کے وقت کی گفتگو دے رہی ہے کہ وہ ہر جنگ میں اس نیت اور اس ارادہ سے شامل ہوئے کہ مرنے کے لئے جارہا ہوں۔نہ کہ زندہ واپس آنے کے لئے۔ان کی عزت۔رتبہ۔درجہ اور قبولیت اسی واسطے تھی کہ ہر ایک لڑائی کے وقت انہوں نے یہی سمجھا کہ میری جان در اصل میری نہیں ہے اور میں جان دینے چلا ہوں نہ کہ اسے واپس لانے کے لئے اور یہ میرے پاس بطور امانت تھی جسے سپر د کر نے جارہا ہوں۔یہ بات اور تھی کہ انہوں نے خدا کو اپنی جان ہر بار ہی دی اور خدا نے انہیں واپس دے دی۔لیکن اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ انہوں نے اپنی طرف سے جان دینے میں کوئی کمی نہ کی اور ہر بار ہی ہتھیلی پر رکھ کر دینے کے لئے نکلے۔اسدالغابہ و تاریخ الخمیس جلد ۲ ص ۱۷۵