خطبات محمود (جلد 5) — Page 430
خطبات محمود جلد (5) ۴۲۹ زار روس کا بادشاہ تھا۔ اس کے متعلق آپ نے بتایا تھا کہ وہ ایک سخت مصیبت میں مبتلا ہوگا۔ یہ پیشگوئی جس وقت کی گئی۔ اسی وقت اس شعر پر کہ :- یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے کہد یا تھا کہ :۔ خدا تعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے۔ اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہوگا جو نمونہ قیامت کا ہوگا۔ بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہئیے ۔ جس کی طرف سوره اذا زلزلت الارض زلزالها اشارہ کرتی ہے۔ لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو۔ بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو۔ جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے۔ جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوروں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان 66 ظاہر نہ ہوا اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کا ذب ٹھہروں گا ۔ اے اس عبارت میں صاف طور پر آپ نے بتلایا ہے کہ یہ وحی کے ماتحت پیشگوئی ہے۔ اگر چہ آپ نے وہ وحی نہیں بتلائی لیکن اس کی تفصیل ان اشعار میں نہایت واضح طور پر کر دی تھی ۔ جو حرف بحرف پوری ہو رہی ہے۔ ان شعروں میں ایک شعر یہ ہے :۔ رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن صبح کر دے گی انہیں مثل درختان چنار یعنی رات کو چنبیلی کے پھولوں کی طرح جن کی سفید پوشاک ہوگی صبح ان کا یہ حال ہو گا کہ جس طرح چنار کے پتے کا رنگ سرخ ہوتا ہے اسی طرح خون سے ان کے کپڑوں کا رنگ سرخ ہو جائے گا۔ اب اگر یہ ایک شاعرانہ تشبیہہ ہی ہوتی اور لڑائی میں ایسا ہو بھی جاتا تو بھی ان لوگوں کو جن کی نسبت یہ پیشگوئی تھی یہ بتانا مشکل ہوتا کہ چنار کے درخت کے پتوں کی طرح تمہارے لباس خون سے سرخ ہو گئے ہیں۔ کیونکہ جن لوگوں نے چنار کے درخت کو دیکھا نہ ہوتا اور جو جانتے ہی نہ ہوتے کہ چنار کے پتوں کا کیا رنگ ہوتا ہے۔ وہ اس تشبیہہ کو اچھی طرح سمجھ نہ سکتے۔ اور ان کے خیال میں زیادہ سے زیادہ یہ بات آسکتی کہ جس طرح دوسرے بعض درختوں کے پتوں میں کچھ سرخی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح چنار کے پتوں میں بھی سرخی ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ چنار کے پتہ پر ایسی سرخی ے :۔ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔