خطبات محمود (جلد 5) — Page 425
خطبات محمود جلد (5) ۴۲۴ وَاخِرُ دَعْوهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔(یونس : ۱۱) کہ آخری پکار بھی ان کی یہی ہوتی ہے کہ الحمد للہ رب العالمین۔اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اسلام کی ابتداء بھی الحمد للہ سے ہوئی ہے اور انتہا بھی الحمد للہ پر ہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور احسان سے ہی قرآن کریم کو نازل کیا۔ورنہ کس انسان کی طاقت تھی کہ ایسا بے نظیر کلام بنا سکتا یا اس کا کیا حق تھا کہ خدا تعالیٰ اس کے لئے قرآن نازل کرتا۔مگر دیکھو اس وقت جبکہ ہر قسم کے علوم میں ترقی اور ایزادی ہوئی ہے۔تمام دنیا قرآن کریم کے مٹانے کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔لیکن کیا اس کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ اور بھی نکلا ہے کہ ایسا کرنے والے خود ذلیل اور شرمندہ ہو گئے ہیں۔پھر کیا یہ درست نہیں ہے کہ آج تک کسی انسان کو یہ توفیق نہیں ملی کہ قرآن کریم سے بڑھ کر کوئی کتاب پیش کر سکے۔آج تک تمام مخالفین اسلام کا کام قرآن کریم پر اعتراض اور شکوک پیدا کرنا ہی رہا ہے۔اس سے بڑھ کر وہ کچھ نہیں کر سکے۔حالانکہ شکوک اور اعتراضات کا پیدا کرنانہ تو کوئی مشکل کام ہے اور نہ ہی کسی چیز کی صداقت کو چھپا سکتا ہے شبہات تو کئی انسانوں کو اپنے جسم کے متعلق بھی پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ سوفسطائی لوگ کہتے ہیں کہ انسان کا جسم بھی کوئی چیز نہیں۔یہ صرف وہم ہی وہم ہے۔تو و ہم پیدا کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔مثلاً ایک شخص کسی دوست کی بڑی پر تکلف دعوت کرے اور اس کی خاطر و مدارات کے لئے بہت بڑی تیاری کرے۔مگر اس کے دوست کو وہم ہو جائے کہ اس نے میرے لئے اچھے کھانے اس لئے پکوائے ہیں کہ ان میں زہر ملا کر مجھے ہلاک کر دے۔کیا اس وہم کے بعد وہ اس دعوت میں شریک ہوگا۔ہرگز نہیں۔بلکہ بھاگ جائے گا۔اسی طرح کتنا ہی پختہ مکان بنا ہو۔مگر ایک شخص خیال کر لے کہ اگر کوئی چھوٹا سا خیمہ ہوتا اور وہ میرے اوپر گر پڑتا تو شاید میں بچ جاتا لیکن اگر میں اس گھر کے اندر داخل ہوا۔اور یہ میرے او پر گر پڑا تو پھر نہیں بچ سکوں گا۔یہ خیال کر کے وہ کبھی اس میں داخل نہیں ہوگا۔بلکہ بھاگ جائے گا۔یہ محض خیالی باتیں ہی نہیں ہیں۔بلکہ اس قسم کے انسان دنیا میں ہوتے بھی ہیں چنانچہ خیر پور کے نواب صاحب جو موجودہ نواب صاحب سے پہلے تھے۔ان کو اسی قسم کی بیماری تھی کہ وہ مکان کے اندر داخل نہیں ہو سکتے تھے انہیں یہی خیال لگارہتا کہ میں مکان کے اندر گیا اور وہ میرے اُو پر گرا۔تو وہم اور خیال کا پیدا کر لینا کوئی مشکل اور بڑی بات نہیں ہر ایک بات اور ہر ایک سچائی کے متعلق نہایت آسانی سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔لیکن اگر مذہب کی بنیاد بھی و ہم پر ہی ہو تو کبھی کسی بات کا فیصلہ نہ ہو سکے۔فیصلہ ہمیشہ خوبیوں اور صداقتوں کے مقابلہ سے ہی ہو ا کرتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ فلاں چیز میں خوبی ہے یا نہیں اور دوسروں سے خوبیوں کے لحاظ سے بڑھ کر ہے یا