خطبات محمود (جلد 5) — Page 414
خطبات محمود جلد (5) ۴۱۳ اس اصل کے ماتحت میں جماعت کے تمام لوگوں کو خواہ وہ قادیان کے رہنے والے ہوں یا باہر کے۔ متوجہ کرتا ہوں کہ تم نے ایک نبی کے ذریعہ اسلام کے احکام پر عمل کرنے کا تہیہ کیا ہے مگر دوسروں نے اس نبی کے ہاتھ پر کوئی اقرار نہیں کیا۔ تم نے یہ اقرار کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔ مگر انہوں نے اس قسم کا کوئی عہد نہیں باندھا۔ اگر چہ وہ اس نبی کو نہ ماننے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے مواخذہ کے نیچے ہیں ۔ مگر تم جنہوں نے یہ عہد کیا ہے۔ اگر اس کے خلاف کرو گے تو بہت زیادہ سزا کے مستحق بنو گے۔ اگر وہ ادھر توجہ نہ کریں تو انہیں اس پر سزا نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ وہ اس سے بری ہیں کہ عہد باندھ کر اس کے خلاف کر رہے ہیں۔ مگر ہماری جماعت کے لوگوں نے تو یہ عہد کیا ہے کہ یہ اپنی جان ۔ اپنے مال ۔ اپنے آرام کو خُدا کی راہ میں قربان کریں گے۔ پھر اگر تم اپنی خوشی سے اس عہد کو پورا نہیں کرو گے۔ اور خُدا کے عہد کو فراموش کر دو گے تو وہ زبردستی پورے کرائے گا۔ اور اس وقت تم کچھ نہیں کر سکو گے۔ تھوڑا ہی عرصہ ہوا گورنمنٹ برطانیہ کے وزراء نے اعلان کیا تھا کہ گورنمنٹ کو قرضہ کی ضرورت ہے۔ اگر خوشی سے روپیہ دو تو بہت اچھی بات ہے۔ اس پر علاوہ خوشنودی سرکار کے سود بھی بہت دیا جائے گا لیکن اگر اپنی خوشی سے روپیہ نہیں دو گے تو پھر گورنمنٹ اس قسم کے قوانین بنائے گی کہ مجبوراً تم کو روپیہ دینا پڑے گا۔ اور پھر سود بھی اس شرح سے نہیں دیا جائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے دو قسم کے ابتلاء ہیں۔ ایک تو وہ جو خدا تعالیٰ خود انسان کو اختیار دیتا ہے کہ تم خود اپنے او پر وارد کرلو۔ جیسے نماز ہے۔ سردی کا موسم ہے۔ وضو کرنا ہے۔ ٹھنڈے پانی کو اگر گرم کر لیا جائے تو کوئی ممانعت نہیں ۔ جس طرح انسان آرام دیکھے کر سکتا ہے۔ پھر روزہ ہے۔ موسم سخت ہے اس کے لئے انسان ایسا انتظام کر سکتا ہے کہ بھوک نہ لگے۔ ایسی مقوی غذا ئیں کھائے جو اسے ناطاقت نہ ہونے دیں۔ یا ایسی ثقیل خوراک کھائے جو شام تک ہضم ہو۔ پھر زکوۃ ہے کہ انسان سال بھر میں ایک دفعہ اپنے مال کا کچھ حصّہ خُدا کی راہ میں دیدے۔ پھر حج ہے اس کے لئے یہ نہیں کہ ہر سال کوئی راہ حج کرے بلکہ تمام عمر میں ایک دفعہ جب موقعہ ملے۔ اور فراغت دیکھے تو حج ادا کر دے یہ ایسی ریاضتیں ہیں جن کے ادا کرنے کا انسان کو اختیار دیا گیا ہے۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ کوئی استاد اپنے شاگرد کو کہے کہ تم اپنے آپ کو اتنے بید لگا لو۔ جب وہ خود لگائے گا تو اُستاد کی نسبت ضرور ہی ہلکے لگائے گا۔ جب انسان اس تکلیف کو بند نہیں کرتا جس کا اُسے اختیار دیا جاتا ہے اور اس کو اپنے پر وارد نہیں کرتا تو پھر خدا تعالیٰ خودسز یتا ہے۔ اور پھر وہ سزا بہت سخت ہوتی ہے۔ جیسے جب کوئی لڑکا خود اپنے تئیں بید نہ مارے تو پھر اُستاد خود مارتا ہے اور اس نرمی اور احتیاط سے نہیں مارتا جس سے خود وہ لڑکا اپنے تئیں سزا دے سکتا تھا۔اسی طرح جب انسان خُدا کے وہ