خطبات محمود (جلد 5) — Page 413
خطبات محمود جلد (5) ۴۱۲ بہت دفعہ جب مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ تم پر جو ذلت و نکبت واد بار آرہا ہے وہ اسلئے ہے کہ تم نے اسلام کو پس پشت ڈال دیا ہے۔اور شریعت اسلام کی پابندی کو چھوڑ دیا ہے تو وہ اکثر یہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارا ان عذابوں اور ذلتوں میں گرفتار ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم نے اسلام کے احکام کی پابندی کو چھوڑ دیا ہے۔تو عیسائی۔موسائی اور دیگر اقوام جو ہر بات میں روز افزوں ترقی کر رہی ہیں ان کی ترقی کا کیا سبب ہے۔حالانکہ ہم لوگ تو اسلام کی صداقت کو مانتے ہیں۔مگر وہ تو اس کے نام تک سے متنفر ہیں۔پھر وہ کیوں دن بدن ترقی کر رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہماری ذلّت واد بار کواحکام اسلام کی نافرمانی کا باعث قرار دینا کسی طرح درست نہیں ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ جو ترقی کر رہے ہیں انہوں نے اسلام کو قبول ہی نہیں کیا اور اسلام کو قبول نہ کرنے کی سزا ان کو اس جہان میں نہیں بلکہ اگلے جہان میں ملے گی۔اس جگہ جو کسی کو سزا ملتی ہے تو وہ حق کے مقابلہ اور شرارت کے باعث ملتی ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود اسی مسجد سے گھر کی طرف جارہے تھے۔جب اُس بڑے مکان کے بالمقابل پہنچے تو اپنی چھڑی کو زمین پر مارتے جارہے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر یہ لوگ میری اور میری جماعت کی مخالفت میں شرارت اور فتنہ کو چھوڑ دیں تو خُدا تعالیٰ ضرور ان کو طاعون سے نجات دیدے کیونکہ خدا تعالیٰ نہ ماننے پر اس دنیا میں سزا نہیں دیتا۔بلکہ آخرت میں دیتا ہے اور یہاں اُس وقت سزا دیتا ہے جبکہ لوگ شرارت اور فتنہ پردازیوں سے حق کا مقابلہ کرتے ہیں۔مسیحیوں کا ترقی کرنا اس لئے ہے کہ وہ اسلام کو سرے سے مانتے ہی نہیں اور مسلمانوں کا عذابوں میں گرفتار ہونا اس لئے ہے کہ وہ بغاوت کے مرتکب ہیں۔یعنی اسلام کو مان کر پھر اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔اس لئے خُدا ان کو سزا دیتا ہے۔اور اگر مسلمانوں کو ان کی اس بغاوت کی کوئی سزا نہ ملتی۔تو حق و باطل کی تمیز ہی اُٹھ جاتی۔اب ان کو سزا ملنے سے پتہ لگتا ہے کہ کوئی خُدا ہے جو دیکھ رہا ہے۔اگر اس کی بات کو مان کر پھر اس کی خلاف ورزی کی جائے تو وہ سزا دیتا ہے۔لیکن جو اس کے احکام کو ہی نہیں مانتے ان کے لئے بھی سزا ہے۔مگر وہ اور قسم کی ہے۔اور آخرت میں ملتی ہے۔وہ جو مان کر انکار کرتے ہیں۔ان کو یہیں سزا دی جاتی ہے۔پس یہ اصل ثابت شدہ ہے کہ جب کوئی قوم خُدا کے قوانین کو چھوڑ دیتی ہے تو خدا تعالیٰ ایک نبی کو بھیجتا ہے۔جب وہ قوم اس کا مقابلہ کرتی ہے اور شرارت اور فتنہ سے اس کے مقابلہ میں کھڑی ہو جاتی ہے۔اور اس سے گستاخی سے پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو اپنے عذاب میں پکڑ لیتا اور سزا دیتا ہے۔مگر یہ عذاب اس کی شرارت اور گستاخی کے باعث ہوتا ہے نہ اس لئے کہ اس نے اس نبی کو کیوں تسلیم نہیں کیا؟