خطبات محمود (جلد 5) — Page 412
خطبات محمود جلد (5) ۴۱۱ اس کے مخالف ہے۔اس کے افراد کہتے ہیں کہ بے شک آپ کو اختیار ہے کہ آپ قواعد بنا ئیں اور ہم سے منوائیں۔اور ہم اس بات کو مانتے ہیں۔مگر ان پر عمل نہیں کریں گے۔پس جنہوں نے تصفیہ حقوق نہیں کیا ہوتا ان کی نسبت وہ لوگ زیادہ مستحق سز او عقوبت ہوتے ہیں جو حکومت کو مانتے ہوئے پھر اس کے احکام کا انکار کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ایک راجہ لاے کا قصہ بیان فرمایا کرتے تھے۔اُس نے آپ سے کہا۔مولوی صاحب آپ نے بھی کوئی بہت رکھا ہوا ہے یا نہیں۔آپ نے فرمایا نہیں راجہ صاحب ہم نے تو کوئی بت نہیں رکھا ہوا ہے۔اس نے کہا مولوی صاحب کوئی تو ہوگا۔فرمایا نہیں کوئی بھی نہیں حیران ہو کر کہنے لگا۔مولوی صاحب سچ سچ کوئی بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا۔راجہ صاحب سچ سچ کوئی نہیں کہنے لگا۔مولوی صاحب میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اور کوئی بت رکھیں یا نہ رکھیں مگر ڈرگا کا ضرور رکھ لیں۔اس کا رکھنا نہایت ضروری ہے۔آپ نے فرمایا۔راجہ صاحب! ہم تو کسی درگا وغیرہ کے قائل نہیں۔اور نہ اس کا بت رکھتے ہیں۔راجہ صاحب نے کہا۔مولوی صاحب اب میں سمجھا کہ کیوں آپ کو یہ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔آپ تو ان کی حکومت میں ہی نہیں ہیں اسلئے وہ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتے۔مگر ہم تو ان کی حکومت میں ہیں۔اگر ہم ان کے خلاف کریں تو وہ ضرور ہم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اسکی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی ہماری ریاست میں رہ کر ہمارے قوانین کے خلاف کرے تو ہم اس کو سزا دے سکتے ہیں۔مگر جو ریاست کے باہر جا کر ہمارے قوانین کے خلاف کرے ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ہے اس کی یہ بات درست نہیں۔کیونکہ بت کوئی چیز نہیں ہیں۔مگر جس اصل کے ماتحت اس نے بیان کی ہے وہ درست ہے کہ جب کوئی کسی کو تسلیم ہی نہیں کرتا اور اس کی حکومت سے ہی باہر ہوتا ہے۔تو وہ اسے کوئی سز انہیں دے سکتا۔مگر جو حکومت کو مانتا ہوا اس کے خلاف کرتا ہے اس کو ضرور سزا دی جاتی ہے۔فقہائے اسلام میں اس بات پر بحث ہوئی ہے کہ کفار پر اوامر شرعیہ کا بجالا ناواجب ہے یا نہیں۔ان میں سے جو محققین ہیں وہ اس طرف گئے ہیں کہ مسلمان جو شریعت کی حکومت کو تسلیم کرتے ہیں۔ان پر تو بے شک احکامِ شرعیہ کی بجا آوری فرض ہے۔مگر جو شریعت اسلام کو ہی نہیں مانتے وہ احکام شریعت کے ماننے پر مکلف نہیں۔ان سے صرف یہ مطالبہ ہو گا کہ تم نے اسلام کیوں قبول نہیں کیا۔مگر ایک مسلمان سے یہ سوال ہوگا کہ تم نے اسلام تو قبول کیا۔مگر اسلام نے جو احکام بتائے تھے ان کو تم نے کیوں تسلیم نہیں کیا۔ا: مہاراجہ کشمیر۔ہے :- مرقاۃ الیقین فی حیاة نورالدین