خطبات محمود (جلد 5) — Page 408
خطبات محمود جلد (5) ۴۰۷ کے ساتھ وابستہ ہیں۔پھر دیکھو ہمارے لئے کس قدر تبلیغ میں آسانی ہے۔گورنمنٹ برطانیہ کی وجہ سے انگریزی زبان تو کاروبار کے لئے سیکھنی پڑتی ہے۔پھر اس زبان کے ذریعہ جہاں گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت ہوو ہیں ہم تبلیغ کر سکتے ہیں لیکن اگر کسی اور حکومت میں تبلیغ کرنے کے لئے جائیں تو وہاں کی زبان سیکھنی پڑے گی۔یہاں ہم انگریزی زبان کاروبار کے لئے پڑھتے ہیں۔لیکن وہی تبلیغ کے کام آجاتی ہے، اور اس طرح گویا ہماری محنت آدھی رہ جاتی ہے۔اب ہمارے مبلغ ماریشس اور نائیجیریا میں تبلیغ کرنے کے لئے جاتے ہیں۔مگر کیوں۔اس لئے کہ یہ ملک گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت ہیں۔اور ان میں جانے کے لئے کسی اور زبان کے سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔انگریزی سے ہی کام ہوسکتا ہے۔لیکن اگر کسی ایسی جگہ تبلیغ کے لئے جانا ہو۔جہاں انگریزی زبان کام نہیں دے سکتی۔تو اس کے لئے بڑی بھاری محنت اور اخراجات کی ضرورت ہوگی۔تو ہر رنگ میں گورنمنٹ کی ترقی سے ہماری ترقی وابستہ ہے۔پھر گورنمنٹ کے احسانات کے مقابلہ میں بھی ہمارا فرض ہے کہ اس کا حق ادا کریں۔ان باتوں کے ہوتے ہوئے کوئی گندہ اور ناپاک خیالات کا ہی انسان ہو گا جو یہ کہے گا کہ گورنمنٹ کی ہمدردی کا دین سے تعلق نہیں ہے۔چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ہندوستان میں کچھ ایسے خیالات بھی پھیلے ہوئے ہیں جن کو وفادارانہ نہیں کہا جاسکتا۔اور ہماری جماعت خُدا کے فضل سے چونکہ ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اس لئے میں بار بار گورنمنٹ کی وفاداری کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اور جس طرح حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ میں نے کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی۔جس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی تاکید نہیں کی۔یا توجہ نہیں دلائی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے کئی ایک کتا بیں مختلف مضامین پر لکھی ہیں۔مگر وفات مسیح کا ذکر ضرور کسی نہ کسی رنگ میں ہر ایک میں کر دیا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ جب یہ مسئلہ حل ہو جائے۔پھر آپ کو قبول کرنے والے کے لئے بہت آسانی ہو جاتی ہے۔تو حضرت مسیح موعود نے جو اپنی کتابوں میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ گورنمنٹ کے ساتھ ہمارے تعلقات نہایت وفادارانہ ہونے چاہئیں اور ہمیں ہر طرح اس کی مدد کرنا چاہیئے۔حتی کہ آپ نے یہ بھی لکھدیا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جب صرف میری ہی جماعت گورنمنٹ کی وفادار ثابت ہوگی۔یہ یونہی نہیں لکھدیا۔خدا تعالیٰ کے مامور کوئی لغو کام نہیں کیا کرتے۔پس اس کے متعلق یہ تو کہا نہیں جاسکتا کہ آپ نے نعوذ باللہ گورنمنٹ کی خوشامد کرنے کے لئے اس طرح لکھدیا ہے۔کیونکہ اگر آپ ایسا نہ لکھتے تو آپ کو کیا خطرہ تھا۔آریہ۔ہندو سکھ وغیرہ تو میں بھی تو اسی ہندوستان میں رہتی ہیں۔انہوں نے اگر نہیں لکھا تو انہیں کیا ہو گیا ہے۔پھر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کا رویہ گورنمنٹ کو پسند نہیں۔مگر باوجود اس کے گورنمنٹ انہیں گرفتار نہیں کرتی۔پھر حضرت مسیح موعود کا کوئی ایسا دعویٰ بھی نہ تھا کہ گورنمنٹ کو اس کے متعلق کوئی کاروائی کرنی پڑتی۔آپ پر دشمنوں کا یہ اعتراض تھا کہ گورنمنٹ کی خوشامد کے لئے ایسا کرتے ہیں۔لیکن یہ بالکل