خطبات محمود (جلد 5) — Page 406
خطبات محمود جلد (5) ۴۰۵ بات پر غور کرے کہ گورنمنٹ کے ساتھ سیاسی طور پر کیا تعلقات ہیں۔بلکہ یہ کہ دینی طور پر کیا ہیں۔دینی طور پر ہماری جماعت کے جو تعلقات گورنمنٹ کے ساتھ ہونے چاہئیں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی سب سے بہتر سمجھ سکتے تھے۔چنانچہ آپ نے اس کے متعلق خوب کھول کھول کر لکھا ہے۔حتی کہ آپ لکھتے ہیں کہ میں نے کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جس میں گورنمنٹ کی وفاداری کی طرف توجہ نہ دلائی ہو۔پھر فرماتے ہیں۔گورنمنٹ کے سکھ کو اپنا سکھ گورنمنٹ کی تکلیف کو اپنی تکلیف گورنمنٹ کی ترقی کو اپنی ترقی گورنمنٹ کے تنزل کو اپنا تنزل سمجھنا چاہئے۔یہ تو حکما ہو گیا کیونکہ ہمارے امام حضرت مسیح موعود نے خود اسکی تشریح کر دی ہے۔لیکن اگر عقل و فکر سے دیکھیں تو بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ترقی اس گورنمنٹ سے وابستہ ہے۔مشاہدہ سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے۔اسی کے مطابق دیکھ لو کہ وہ کونسی جگہ ہے جہاں احمدیت کو ترقی ہوتی ہے۔کابل کی سرزمین کو دیکھو وہاں ہمارے دو آدمی محض احمدی ہونے کی وجہ سے شہید کئے گئے اور اس وقت تک بھی وہاں علی الاعلان احمدیت کا اظہار نہیں ہوسکتا۔پھر ترکوں کی حکومت ہے۔جس کے بادشاہ کو امیر المومنین کہا جاتا ہے وہاں ہمارا ایک آدمی کتابیں لے کر پہنچا تو اس سے کتابیں لے کر جلا دی گئیں۔یہاں سے ایک اشتہار عربی میں شائع ہو ا تھا۔وہ وہاں چسپاں کیا گیا تو اس پر بڑی لے دے ہوئی۔اور آخر اس کو اتر واد یا گیا۔یہ تو دور کی با تیں ہیں۔ہندوستان میں ہی دیکھ لو۔جہاں مسلمانوں کی کچھ ریاستیں باقی ہیں۔جن کے متعلق حضرت خلیفہ مسیح اول فرما یا کرتے تھے کہ ان کو خد اتعالیٰ نے اس لئے باقی رکھا ہے کہ ان کو دیکھ کر معلوم ہو جائے کہ اسلامی حکومت کی یہ حالت تھی۔ان میں سے ایک ریاست کا یہ حال ہے کہ احمدیوں کو مسجد بنانے تک کی اجازت نہیں دی جاتی۔مندر۔گرجے اور گردوارے تو بن رہے ہیں۔ان کے لئے بڑی خوشی سے اجازت دی جاتی ہے۔لیکن اگر اجازت نہیں دی جاتی تو احمد یوں کو مسجد بنانے کی نہیں دی جاتی۔ایک اور ریاست ہے۔جہاں کوئی احمدی بنا۔جھٹ اس پر کوئی نہ کوئی مقدمہ کھڑا کر دیا گیا۔یہ سلوک ہے۔جو ہم سے کیا جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں گورنمنٹ برطانیہ کودیکھئے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہم سے ایسا سلوک کرتی ہے جو دوسروں سے نہیں کرتی۔بلکہ ہم سے بھی وہ اس طرح پیش آتی ہے۔جس طرح دوسروں سے لیکن اس سے یہ نہیں ہوسکتا کہ اگر دوسروں کے دلوں میں شکر گزاری کا جذبہ نہیں ہوتا تو ہمارے دلوں میں بھی نہ ہو۔کیونکہ اگر انہیں دین کی اشاعت کی ضرورت اور پر واہ نہیں ہے تو ہمیں تو ہے۔پس اگر ہمارے ساتھ گورنمنٹ کا سلوک ایسا ہی ہے جیسا کہ دوسروں کے ساتھ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر وہ گورنمنٹ کے ساتھ ہمدردی نہ رکھیں اور اس کے شکر گزار نہ ہوں تو ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیئے۔کیونکہ ہم سے بھی گورنمنٹ ویسا ہی سلوک کرتی ہے۔جیسا کہ ان سے۔یہ دلیل بالکل بے ہودہ اور لغو ہے۔پھر ایک اور بات ہے اور وہ یہ کہ ان لوگوں کے لئے امن ہے