خطبات محمود (جلد 5) — Page 405
خطبات محمود جلد (5) ۴۰۴ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا۔اور دوسروں کو کرانا ہمارا مقصد اور مدعا قرار پا گیا ہے تو اس راستہ میں کوئی چیز جو سامنے آئے اسے گرا دینا چاہیئے۔اور کسی کی پرواہ نہیں کرنا چاہئے۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہد یتے ہیں کہ فلاں بات کا دین سے کیا تعلق ہے۔لیکن اگر ان کی بات کو مان لیا جائے تو وہ تو تمام باتوں کو دین سے بے تعلق کہدیں گے۔اور پھر بھی انکارین دین ہی رہے گا۔ان کی مثال اس دوکاندار کی سی ہوگی جو کہتا تھا کہ میری دوکان میں سب کچھ موجود ہے۔جب اس سے پوچھا گیا کہ ہلدی ہے تو کہنے لگا یہ نہیں اور سب کچھ ہے۔پھر مرچیں پوچھی گئیں تو کہنے لگایہ نہیں اور سب کچھ ہے۔اسی طرح جو چیز بھی دریافت کی جائے اس کے متعلق کہدے کہ یہ نہیں اور سب کچھ ہے۔تو اسکی بھی دوکان ہی تھی۔لیکن اس طرح کام نہیں چلا کرتے۔اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں بات کا دین سے تعلق نہیں ہے۔اس لئے میں اسے عمل میں نہیں لاتا تو یہ اس کی غلطی ہے۔اسے چاہیئے ہر ایک چیز دین کے لئے قربان کرنے کو تیار ہے۔خواہ کسی چیز کا اسے دین سے تعلق سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔اس زمانہ میں ایسی ہوا پھیل رہی ہے جسے آزادی کہا جاتا ہے۔لیکن دراصل وہ غلامی سے بھی بدتر ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ سے ہمارا کیا تعلق ہے۔یہ ایک باہر سے آئی ہوئی حکومت ہے۔پھر نہ ہمارے آدمی اعلیٰ عہدوں پر ہیں۔نہ ہمیں ہمارے حقوق دیئے جاتے ہیں۔اس لئے اس کی فتح و شکست کا اثر ہم پر کچھ نہیں ہے۔یہ اور اس قسم کے اور خیالات فاسدہ کے ماتحت عوام میں اور خصوصا تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک ایسی روح پیدا کی جاتی ہے کہ گورنمنٹ کی مدد کرنا فرض نہیں ہے۔سیاسی طور پر یہ خیالات کہاں تک درست ہیں اس کے متعلق اس وقت کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ جمعہ کے خطبے ایسی سیاست کے لئے نہیں ہوتے۔جو محض دنیا سے تعلق رکھتی ہو۔لیکن میں اس قدر بتا دیتا ہوں کہ گو اس قسم کے خیالات رکھنے والے لوگ سیاسی طور پر بھی غلطی اور بڑی بھاری غلطی پر ہیں۔لیکن ہماری جماعت کو سیاسی طور پر اس پہلو کو نہیں دیکھنا۔بلکہ اس نقطہ نظر سے دیکھنا ہے کہ اس کا دین سے کیا تعلق ہے۔اگر اپنی ضروریات اور مفاد کے لحاظ سے گورنمنٹ برطانیہ کی وفادارانہ خدمت کرنا۔اور اس کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھنا اور اس کی ہر ضرورت کے وقت مدد کرنا ہمارا فرض ہے تو خواہ سیاسی خیالات اس کے خلاف ہی ہوں۔تو بھی ہمیں ان کو چھوڑنا پڑے گا۔لیکن اگر کوئی دین کے معاملہ میں سیاسی خیالات کو مستثنی کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ ان کا دین سے تعلق نہیں ہے۔تو اسے یادرکھنا چاہیئے۔اس کا دین کامل نہیں ہے کیونکہ دین کے لئے ضروری ہے کہ جس قسم اور جس چیز کو بھی قربان کرنا پڑے قربان کر دی جائے۔خواہ وہ مال ہو یا اولا دخواہ وہ قرابت کا تعلق ہو یا دوستانہ خواہ وہ خیالات ہوں یا عقائد غرضیکہ ہر ایک چیز قربان کر دے۔اور اگر یہ نہیں کیا جا تا تو کبھی ترقی اور کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس ہماری جماعت کے لئے اتنا کافی نہیں کہ اس