خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 373

خطبات محمود جلد (5) ۳۷۲ ٹھیک ہوتی ہے۔لیکن اس کا لہجہ سخت یا درشت ہونے کی وجہ سے دوسرے کو رنجیدہ کر دیتا ہے لیکن اگر وہی بات نرمی کے ساتھ اور عمدگی سے کہی جائے۔تو پھر شکایت نہیں پیدا ہوتی۔مثلاً ایک شخص سوال کرتا ہے کہ فلاں چیز مجھے دے دو اور اس کو یہ جواب دیا جاتا ہے کہ میں نہیں دوں گا۔گو یہ جواب معاملہ کے لحاظ سے عدل ہو مگر اخلاق کا عدل اجازت نہیں دیتا کہ اس قسم کا جواب دیا جائے۔کیونکہ یہی بات نرمی سے بھی کہی جاسکتی ہے۔اور نرمی سے کلام کرنا کسی پر بار نہیں گزر سکتا۔یہی وجہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے انسان کو بھی حکم ہوا کہ فرعون کے ساتھ نرم نرم باتیں کرنا۔فرعون وہ ہے کہ جو خدائی کا دعویدار ہے اور بڑا سرکش اور متکبر ہے۔مگر اس کے ساتھ گفتگو کرنے کا طریق خُدا نے یہ بتلایا کہ نرم نرم باتیں کرنا تو وہی بات جو ایک انسان سختی سے کہنا چاہے نرمی سے بھی کہہ سکتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ مالی رنگ میں کسی ایسے شخص کو کچھ نہ دینا کہ جس کا حق نہ ہو۔عدل کے خلاف نہیں۔لیکن درشتی سے پیش آنا عدل کے بالکل خلاف ہے۔قواعد چیز کے نہ دینے پر مجبور کرتے ہیں مگر ایسا جواب دینے پر مجبور نہیں کرتے جس سے رنجش پیدا ہو۔پس اگر کوئی شخص تم سے کوئی سوال کرتا ہے اور تمہارے تو اعد تم کو اجازت نہیں دیتے کہ اس کو پورا كروتو انما السَّائِل فَلا تنہرا کے ماتحت اس سے پیش آؤ۔اور اس کو قول معروف کہہ دو اور ترش روئی سے جواب نہ دو۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ عدل ایک ادنی درجہ ہے جو اس سے ہٹتا ہے وہ برائی کی طرف قدم مارتا ہے۔اب اگر کوئی کسی سے نرم بات نہیں کرتا۔اور اپنی سختی کو فطرت کے سر تھوپتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ نعوذ باللہ قرآن کریم نے جھوٹ کہا ہے۔کیونکہ قرآن شریف سے تو ظاہر ہوتا ہے۔کہ خُدا نے انسان کو اعلیٰ اخلاق دیئے ہیں۔آگے وہ خود اپنی عادات کو خراب کر لیتا ہے۔لیکن اگر وہ اس پر زور دیوے تو اس کو درست بھی کر سکتا ہے۔پس جو شخص عادل نہیں وہ مومن نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جب عدل میں نقص آیا۔تو ایمان مٹ گیا۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کی دل شکنی ہوگئی تو کیا ہوا۔حالانکہ کسی سے اچھے اخلاق سے معاملہ کرنا عدل میں داخل ہے۔اس لئے ہر ایک انسان کو چاہئیے کہ دوسرے کے ساتھ اس طریق سے پیش آئے جس طریق پر وہ خود چاہتا ہے کہ لوگ اس سے سلوک کریں۔پس میں یہاں کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔حضرت مسیح ناصری اس شخص پر بہت افسوس کرتے ہیں جو اپنی کسی حرکت سے دوسرے کے لئے ٹھوکر کا موجب بنے۔لیکن بعض لوگ کہا کرتے ہیں۔کہ اجی کیا ہو ا ہمارے ذریعہ کوئی گمراہ ہوا۔قرآن شریف کے ذریعہ بھی تو گمراہ ہوتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِى بِهِ كَثِيرًا :- :- الضحى : 11 :- البقرہ:۲۷۔