خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 371

خطبات محمود جلد (5) ۳۷۰ جناب کی کچھ خدمت نہیں کر سکا۔مہمان نے جواب دیا کہ کیا اس طرح تم احسان جتاتے ہو کہ مجھ کو تم نے کھانا کھلایا ہے۔تم سوچو تو سہی کہ تمہارا کھانا کھلا کر مجھ پر احسان ہو ایا میرا تم پر کیا جب تم اندرکھانا لینے گئے تھے اگر اس وقت میں تمہارے مکان کو آگ لگا دیتا تو یہ تمام سامان جل کر راکھ کا ڈھیر ہو جاتا۔تو یہ تو میرا تم پر احسان ہے کہ میں نے تمہارے گھر کو آگ نہیں لگائی کسی کے مال کی حفاظت کرنا اور کوئی نقصان نہ پہنچانا ایک اچھا کام ہے۔مگر اس مہمان نے جس طرح اس بات کو ادا کیا۔کیا کوئی عقلمند اس کو پسند کرے گا۔اس میں شک نہیں کہ اس نے اپنا فرض ادا کیا۔کہ صاحب خانہ نے چونکہ اسے آرام پہنچایا تھا وہ بھی کوئی ایسا فعل نہ کرتا جس سے میزبان کو نقصان اٹھانا پڑتا مگر اس کا اس بات کو بیان کرنا کچھ قابل تعریف نہ تھا۔اور یہ کوئی خوبی کی بات نہیں تھی۔بلکہ اس کا اظہار بھی قابل شرم اور لائق نفرت بات تھی۔غرض نیکی کے مقامات میں سے سب سے ادنیٰ مقام عدل کا ہے یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسه لے کہ انسان اس وقت تک مومن ہی نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کو اپنے بھائی کے لئے وہی بات پسند نہ ہو جو اس کو اپنے نفس کے لئے پسند ہے۔کیوں۔اس لئے کہ اگر کسی شخص سے عدل میں فرق آتا ہے تو اس سے اس کے ایمان میں بھی فرق آجاتا ہے کیونکہ عدل کرنے سے ہی انسان ایمان کے پہلے درجہ میں داخل ہوتا ہے باقی رہے مدارج سو وہ عدل سے حاصل نہیں ہوتے۔اور صرف عدل سے کوئی شخص اعلیٰ درجہ کا ایمان حاصل نہیں کر سکتا۔ہاں نجات کے لئے صرف عدل کافی ہے۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے آکر اسلام کے متعلق پوچھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا کہ دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔اس نے کہا کیا ان کے سوا اور بھی ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں۔لیکن اگر تو زیادتی کرے یعنی نفل پڑھے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اور رمضان کے روزے۔اس نے کہا کیا ان کے سوا اور روزے بھی ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں۔مگر جو تو زیادہ رکھے۔یعنی نفل کے طور پر۔پھر آپ نے فرمایا۔زکوۃ دینی چاہئیے۔اس نے کہا کیا اس کے سوا اور بھی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں مگر جو تو زیادتی کرے۔یعنی اپنے طور پر خیرات کرے۔یہ ٹن کر وہ شخص یہ کہتا ہوا چلا گیا۔کہ خدا کی قسم میں نہ ان میں زیادتی کروں گا نہ کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹن کر فرمایا۔یہ شخص کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا ہے۔جو شخص فرائض کو ادا کرتا ہے وہ صرف نجات کا مستحق ٹھہرتا ہے۔مگر قرب اور مدارج حاصل کرنے کے لئے اور طریق ہیں۔رسول اللہ صلعم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اگر ان باتوں میں اس نے کمی نہ کی تو یہ نجات پا گیا۔یہ نہیں : صحیح مسلم کتاب الایمان باب من خصال الایمان ان يحب لا خيه ما يحب لنفسه من الخير - بخاری کتاب الصوم باب وجوب صوم رمضان۔