خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 370

خطبات محمود جلد (5) ۳۶۹ طور پر ادا کرنا انسان کو نیکی کی ایک ادنیٰ قسم کا وارث بناتا ہے۔اور ان حقوق کے ادا کرنے سے جو پیچھے ہٹتا ہے وہ نیکی کی طرف نہیں بلکہ بدی کے میدان میں آتا ہے۔اور اسکا قدم بدی کی طرف بڑھتا ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول یا حکام وقت کے حقوق ادا نہیں کرتا یا ان میں کوتاہی کرتا ہے یا جو حقوق قرضہ کے طور پر اس پر عائد ہوتے ہیں ان میں کوتاہی کرتا ہے یا جو تمدن کے حقوق میں کمی کرتا ہے یا اگر اپنے نفس کے لئے مقرر کئے ہوئے حقوق کو ادا نہیں کرتا وہ عدل سے نکل کر ظلم میں آتا ہے۔اور برائی کا مرتکب ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس کی نسبت فرماتا ہے۔اے مومنو عدل سے کام لو۔یعنی جو خُدا کے حقوق ہیں ان کو ادا کرو جو اس کے رسول کے حقوق ہیں ان کو ادا کرو۔اور وہ حقوق جو حکومت کے ہیں ان کو بھی ادا کرو۔اگر لوگوں کے کچھ حقوق قرض کے طور پر آتے ہیں تو ان کو ادا کرو۔جو حقوق تمدن نے تم پر قائم کئے ہیں ان کو ادا کرو۔یا وہ جو تم پر تمہارے نفس نے فرض کئے ہیں۔ان کو بھی ادا کرو۔اگر تم ان حقوق کوادا کرو گے تو یہ نیکی کی ادنیٰ قسم ہے۔یعنی اگر کوئی شخص عدل سے کام لے تو اس پر کوئی الزام نہیں آتا۔اور گو اس کو مدارج عالیہ حاصل نہ ہوں مگر وہ گنہ گار نہیں ہوسکتا۔مثلا اگر کوئی شخص نماز کے فرائض اور سنن کو ادا کرتا ہے اور نفل نہیں پڑھتا یا کوئی زکوۃ جو خدا نے اور اس کے رسول نے مقرر کی ہے ادا کرتا ہے اور مسکینوں اور یتیموں کو زکوۃ کے ماسوا امداد کے طور پر کچھ نہیں دیتا تو وہ قابل الزام نہیں اسی طرح حکومت کی طرف سے جو باتیں مقرر ہیں ان کو پورے طور پر جس طرح سمجھتا ہے ادا کرے تو وہ زیر مؤاخذہ نہیں آسکتا۔یا کسی کا قرض دینا ہو اور اس کو دے دیا جائے تو کوئی الزام نہیں آتا۔یا تمدن نے جو حقوق قرار دیئے ہیں ان کو ادا کرے تو کوئی اس پر حرف نہیں رکھے گا۔یا خود اپنے نفس کے حقوق مقرر شدہ اور ثابت شدہ ہیں ان کو ادا کرے تو زیادہ کے نہ دینے پر کچھ الزام نہیں۔پس ان حقوق کے ادا کرنے سے وہ صرف اپنے نفس کو پاک کرتا ہے اور پاکیزگی یہی ہے کہ اس پر کوئی الزام نہ ہو۔پس عدل کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ اس پر کوئی الزام عائد نہ ہو۔لیکن اس عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہی نہ ہو کہ کسی انسان پر کوئی الزام عائد نہ ہو بلکہ اس کی تعریف بھی ہو۔اس زمانہ میں بڑی نیکی یہ سمجھی جاتی ہے کہ کوئی شخص بُرا کام نہیں کرتا یعنی کسی سے کسی بُری بات کی نفی کرنا اس زمانہ میں بڑی خوبی اور نیکی سمجھی جاتی ہے۔مثلاً کہتے ہیں کہ فلاں ظالم نہیں وہ بڑا اچھا آدمی ہے حالانکہ ظلم نہ کرنابڑی نیکی نہیں بلکہ نیکی کا ادنی مقام ہے کیونکہ کسی کا حق ادا کر دینا کونسی بڑی نیکی کرنا ہے۔بعض جگہ تو عدل کا ذکر کر نا شرم کی بات ہوتی ہے۔حضرت صاحب ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ کسی شخص کے کوئی مہمان آیا میزبان نے اس کو بہت کچھ تواضع و تکریم کی اور کھانا وغیرہ اچھی طرح کھلا یا بالآخر دنیا کے طریق کے بموجب اور اکرام ضیف کے رنگ میں اس مہمان سے کہا کہ میں نہایت شرمندہ ہوں کہ